کیا سامان کی خریدوفروخت میں خریدار کا کمپنی کے ملازم کو مالی معاوضہ دینا جائز ہے، تاکہ ڈیل ہو جائے؟ جبکہ اس ملازم کو چیزوں کی فروخت کی تنخواہ ملتی ہے اور معاوضہ کی ڈیمانڈ اس ملازم کی طرف سے ہو۔ بصورتِ دیگر وہ ڈیل نہیں ہو پاۓ گی اور نہ وہ ملازم خریدار کو کمپنی کے مالکان تک پہنچنے دے گا۔
واضح ہو کہ اگر ملازم کے مفوضہ امور میں سے کمپنی کے لیے خرید وفروخت بھی شامل ہو اور اس کام پر باقاعدہ اس کو اجرت (تنخواہ) ملتی ہو تو اس کے لیے خریدار سے خریداری پر کمیشن لینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ یہ رشوت کے زمرے میں آتا ہے جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا مال فروخت کرنے اور ڈیل فائنل کرنے کی غرض سے رشوت لینا دینا ہر دو امور شرعاً ناجائز وحرام ہیں، اس لیے اس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
ففي أحكام القرآن للجصاص: والرشوة تنقسم إلى وجوه: منها الرشوة في الحكم, وذلك محرم على الراشي والمرتشي جميعا, وهو الذي قال فيه النبي صلى الله عليه وسلم: "لعن الله الراشي والمرتشي" والرائش وهو الذي يمشي بينهما فذلك لا يخلو من أن يرشوه ليقضي له بحقه أو بما ليس بحق له, فإن رشاه ليقضي له بحقه فقد فسق الحاكم بقبول الرشوة على أن يقضي له بما هو فرض عليه, واستحق الراشي الذم حين حاكم إليه وليس بحاكم, ولا ينفذ حكمه; لأنه قد انعزل عن الحكم بأخذه الرشوة, كمن أخذ الأجرة على أداء الفروض من الصلاة والزكاة والصوم. ولا خلاف في تحريم الرشا على الأحكام وأنها من السحت الذي حرمه الله في كتابه. وفي هذا دليل على أن كل ما كان مفعولا على وجه الفرض والقربة إلى الله تعالى أنه لا يجوز أخذ الأجرة عليه, كالحج وتعليم القرآن والإسلام; ولو كان أخذ الأبدال على هذه الأمور جائزا لجاز أخذ الرشا على إمضاء الأحكام (2/ 541)