کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کے گوشت میں تمام حصہ داران کی رضا مندی کے باوجود گوشت کا برابر وزن کرنا ضروری ہے کہ نہیں ؟ اگر وزن کرنا ضروری ہے، تو پھر میں کیا گوشت کے علاوہ باقی زوائدات مثلاً مغز ،سر ی پائے، کلیجی، اوجھڑی وغیرہ کو بھی تمام حصوں میں برابر وزن کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا کہ نہیں؟ مدلّل اور تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔
قربانی کے گوشت کو برابر وزن کر کے تقسیم کرنا ضروری ہے، جبکہ دیگر زائد اشیاء مثلاً مغز، سری پائے وغیرہ کو اندازے سے بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
کمافي الدر المختار: ويقسم اللحم وزنا لا جزافا إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفا للجنس لخلاف جنسه. (6/ 318)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله لا جزافا) لأن القسمة فيها معنى المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضا قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفة.وأما عدم جواز التحليل فلأن الربا لا يحتمل الحل بالتحليل، ولأنه في معنى الهبة وهبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تصح اهـ وبه ظهر أن عدم الجواز بمعنى أنه لا يصح ولا يحل لفساد المبادلة خلافا لما بحثه في الشرنبلالية من أنه فيه بمعنى لا يصح ولا حرمة فيه (قوله إلا إذا ضم معه إلخ) بأن يكون مع أحدهما بعض اللحم مع الأكارع ومع الآخر البعض مع البعض مع الجلد عناية اھ (6/ 317)۔