کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کے چار بیٹے ہیں ،اور یہ چاروں بیٹے گھر کے ہر چیز میں شریک ہیں، اور واضح رہے کہ زید خود بھی زندہ ہے، اب زید کی ایک گاڑی ہے، جو چاروں بیٹوں میں سے ایک بیٹا اس گاڑی کو چلاتا ہے ،اور شریک ہونے کی بناء پر تنخواہ بھی نہیں لیتا، بلکہ سارے پیسے گھر میں دیتا ہے ،اب مسئلہ یہ ہے کہ اس ڈرائیور کی بیوی ہے ،جس کے پاس سونا ہے، اور صاحبِ نصاب ہے ،سونے کی وجہ سے جس کی وجہ سے اس سے اس بیوی پر قربانی واجب ہے، لیکن نقد پیسے نہیں ہیں،اب ڈرائیور کہتا ہے کہ میں گاڑی کے اجتماعی پیسوں سے اگر قربانی کے بقدر پیسے لے لوں، اور اپنی بیوی کی طرف سے قربانی کرلوں ،تو یہ پیسے لینا میرے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے، تو قرآن اور حدیث کی روشنی میں کوئی جواز کی صورت ہو تو برائے مہربانی وہ صورت بتا کر ممنون فرمائیں، اور واضح رہے کہ ڈرائیور پر بذاتِ خود قربانی واجب نہیں ہے، اور یہ اپنی بیوی کی طرف سے استحساناً ادا کرتا ہے۔
شخصِ مذکور کی بیوی جب صاحبِ نصاب ہے ،تو قربانی بھی اس پر واجب ہے، البتہ اس کی ملکیت میں نقدی نہ ہونے کی صورت میں سائل اگر با جازت یا اُسے اطلاع دے کر اس کی طرف سے قربانی ادا کر دے ،تو یہ بھی بلا شبہ جائز اور درست ہے۔ اور اس واجب کی ادائیگی میں اگر وہ مشترکہ آمدن سے لے لے ،تو اگرچہ اس کی گنجائش ہے، مگر اُسے چاہیئے کہ گھر کے سرپرست کے علم میں لاکر یہ کام کرے ،اس کی اجازت کے بغیر نہ کرے۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه ،إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا اھ (6/ 312)۔
وفيه ايضاً: ولو ضحى عن أولاده الكبار وزوجته لا يجوز إلا بإذنهم. (6/ 315)۔
و في بدائع الصنائع: ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه اھ (2/ 234)۔