بیوی نے میکے کے دباؤ پر طلاق مانگی،بیوی کے بھائی نے جھگڑا کرکے دباؤ ڈال کے دھمکی دی ،اسٹامپ پر تین طلاقیں لکھوا کردستخط کروا لیے ،شوہر نے کہا کہ جانا ہے تو ایک لے لو،لیکن میکے والوں نے تین طلاقوں پے سائن کروالیے،خرچہ ،زیور ،سامان سب چھوڑ کر میکے والوں نے سائن کروا لیے ،بیوی کو ایک یا تین طلاق کا نہیں پتہ تھا،ورنہ وہ ایک ہی لیتی ،،پلیز بتا دیں کہ طلاق ہو گئی کیا؟ اور کتنی ہوئیں؟طلاق کے وقت بیوی پریگننٹ تھی ،جوکہ آپریشن کروا لیا گیا۔
صورتِ مسؤلہ میں جب شوہر نے تین طلاقوں پر مشتمل اسٹامپ پیپرپر دستخط کر دیے،اگرچہ سسرال والوں کے پریشر اور دباؤکی وجہ سے کیے ہوں ،تب بھی اس کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ(سورة البقرة،الأية:230)۔
و في الفتاوى الهندية : وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو الخ (الفصل السادس في الطلاق بالكتابة،2،255)۔
و فيها أيضا : وأما) (أنواعه) فالإكراه في أصله على نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد ( إلى قوله) (وأما) (حكمه) وهو الرخصة أو الإباحة أو غيرهما فيثبت عند وجود شرطه، والأصل أن تصرفات المكره كلها قولا منعقدة عندنا إلا أن ما يحتمل الفسخ منه كالبيع والإجارة يفسخ، وما لا يحتمل الفسخ منه كالطلاق والعتاق والنكاح والتدبير والاستيلاد والنذر فهو لازم، كذا في الكافي ( الباب الأول في تفسير الإكراه وأنواعه وشروطه وحكمه، ج 5، ص 35، ط : دار الفكر، بيروت)-