میرا مشترکہ قربانی (Joint Qurbani) کے بارے میں ایک سوال ہے:
ہم ایک گائے قربانی کے لیے خرید رہے ہیں جس میں 7 حصے ہوں گے۔ میری فیملی 6 حصے لے گی، جبکہ میرے چچا 1 حصہ لیں گے۔ فی حصہ قیمت 50,000 روپے بنتی ہے، لیکن مالی تنگی کی وجہ سے میرے چچا صرف 30,000 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ باقی 20,000 روپے ہم اپنی طرف سے ادا کر دیں گے، جبکہ گوشت میں انہیں پورا ایک ساتواں (1/7) حصہ دیا جائے گا۔کیا شریعت کی رو سے یہ صورت جائز ہے، حالانکہ مالی شراکت برابر نہیں ہے، بشرطیکہ نیت درست ہو اور گوشت کی تقسیم شرعی طریقے کے مطابق کی جائے؟
صورت ِ مسئولہ میں اگر دیگر شرکاء باہمی رضامندی سے چچا کو کہہ کر ، ان کے حصہ کی رقم میں سے بیس ہزار اپنی جانب سے ملادیں ، لیکن اس رقم کی وجہ سے ان کے حصہ میں کچھ کمی نہ کریں، بلکہ ان کا مکمل ساتواں حصہ شمار کریں، اور اسی حساب سے انھیں گوشت میں بھی شریک کریں ،تو شرعاً ایساکرنا درست ہے ، اور سب کی جانب سے قربانی بھی درست ادا ہوگی۔
کما فی البحر الرائق: وقوله " شاة، أو سبع بدنة " بيان للقدر الواجب والقياس أن لا يجوز إلا البدنة كلها إلا عن واحد لأن الإراقة قربة لا تتجزأ إلا أنا تركناه بالأثر وهو ما روي عن جابر - رضي الله تعالى عنه - قال «نحرنا مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - البقرة عن سبعة والبدنة عن سبعة» ولا نص في الشاة فبقي على أصل القياس وتجوز عن ستة، أو خمسة، أو أربعة، أو ثلاثة ذكره في الأصل لأنه لما جاز عن سبعة فما دونها أولى، ولا يجوز عن ثمانية لعدم النقل فيه وكذا إذا كان نصيب أحدهم أقل من سبع بدنة لا يجوز عن الكل لأنه بعضه إذا خرج عن كونه قربة خرج كله ويجوز عن اثنين نصفا في الأصح اھ (كتاب الأضحية ج:8 ص:198 ناشر: دار الكتاب الإسلامي)