السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته!
میرا سوال قربانی کے متعلق ہے۔ میں نے اس سال عیدالاضحیٰ کے لیے ایک گائے خریدی تھی اور اس وقت میری نیت یہ تھی کہ میں پورے جانور کی قربانی اکیلے اپنی طرف سے کروں گا۔ لیکن اب حالات کچھ مالی طور پر تنگ ہو گئے ہیں اور میں اکیلے پوری گائے کی قربانی کرنا مشکل محسوس کر رہا ہوں۔کیا ایسی صورت میں اب میں اس گائے میں دوسرے افراد کو (قربانی کی نیت سے) شریک کر سکتا ہوں، جبکہ شروع میں کسی کو شریک کرنے کا ارادہ نہیں تھا؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرما دیں کہ آیا ایسا کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟جزاکم اللہ خیراً!
صورت مسؤلہ میں اگرسائل کے صاحب نصاب ہو نےکی وجہ سے اس پرقربانی لازم ہوتی ہےاوراس نےاکیلے مکمل گائے قربانی کی نیت سے خریدی ،خریدتے وقت مزید افراد کو اس میں شریک کرنے کی نیت نہیں کی تھی ،تو ایسی صورت میں کسی اور کو اس میں شریک کرنا اگرچہ مکروہ ہے، البتہ اگراب سائل کے لیے مالی تنگ دستی کی وجہ سے مکمل گائے کی قربانی کی استطاعت نہیں رہی اوروہ مزیدافرادکواس میں شریک کرناچاہتاہے توشرعااس کی گنجائش ہے اورایساکرنے سے سب کی قربانی ادا ہوجائے گی،لیکن اگرسائل نےصاحب نصاب نہ ہونے کے باوجودقربانی کی گائے خریدلی ہے اورخریدتے وقت کسی دوسرےکو شریک کرنے کی نیت نہیں تھی ،تواب کسی دوسرے کواس میں شریک کرناجائزنہیں ،بلکہ سائل پرمکمل گائے کی قربانی خوداپنی طرف سے کرنالازم ہے ۔
کما فی الفتاوى الهندية: ولو اشترى بقرة يريد أن يضحي بها، ثم أشرك فيها ستة يكره ويجزيهم؛ لأنه بمنزلة سبع شياه حكما، إلا أن يريد حين اشتراها أن يشركهم فيها فلا يكره، وإن فعل ذلك قبل أن يشتريها كان أحسن، وهذا إذا كان موسرا، وإن كان فقيرا معسرا فقد أوجب بالشراء فلا يجوز أن يشرك فيها، وكذا لو أشرك فيها ستة بعد ما أوجبها لنفسه لم يسعه؛ لأنه أوجبها كلها لله تعالى الخ (5/ 304)