سوال یہ ہے کہ جیسے شادی کے موقع پر لڑکی کو سونا وغیرہ دیا جاتا ہے جو عموماً اتنا ہوتا ہے کہ جس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے، لیکن اگر قربانی کے وقت لڑکی کے پاس اتنی رقم موجود نہیں ہو جس سے وہ آسانی کے ساتھ قربانی کر سکے تو ایسی صورت میں بھی اس لڑکی پر قربانی واجب ہے ؟
واضح هوكه اگر کسی کے پاس قربانی کے تین دنوں میں ساڑھے سات تولہ سے کم سونا ہو اور اس کے ساتھ ضرورت سے زائد نقد رقم ، چاندی، مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد سامان میں سے کچھ بھی نہ ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی اور اگر سونے کے ساتھ ان میں سے کوئی ایک بھی چیز ہو اور وہ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی۔لہذااگرکوئی شخص صاحب نصاب ہے توبہرصورت اس پران ایام میں قربانی کرنا لازم ہے،ورنہ وہ قربانی نہ کرنے پرگناہ گارہوگا،اگر نقد رقم موجود نہ ہواور کسی سے نقد رقم کا حصول بھی ممکن نہ ہو تو اپنی ملکیت میں موجود نصابی اشیاء (سونا، چاندی، مال تجارت )میں سے کچھ فروخت کرلے، اور قربانی کرلے ، یا قربانی کا جانور ادھار خرید لے اور رقم بعد میں اپنی سہولت کے مطابق ادا کردے۔
كمافي حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي :وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)(6/ 312)
و في الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية :وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب هكذا في فتاوى قاضي خان.(1/ 191)