السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ۔
میرے پاس نقد ایک لاکھ بیس ہزار ہے ، اور ادھار فی الحال ملنے والا نہیں ، آگے جا کر مل جائے گا پچاس ہزار ہیں ، جبکہ میں کرایہ کے گھر میں رہ رہا ہوں اور میرا روزگار فی الحال کوئی مستقل ادارے میں نہیں ، دو ٹیوشن پڑھاتا ہوں جس سے کل بائیس ہزار آتے ہیں ۔
کیا مجھ پر قربانی واجب ہے ؟
واضح ہوکہ کسی دوسرے شخص کو بطور قرض دی ہوئی رقم کا مالک چونکہ اس کا دینے والا ہوتا ہے اس لئے اگر وہ مذکورہ رقم تنہا یا دوسرے اموال کے ساتھ مل کر نصاب ( ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت ) کو پہنچ جائے اور قرض کی واپسی کایقین بھی ہو اوروہ ایام اضحیۃ میں آسانی وسہولت کے ساتھ اپنے موجودمال میں سے قربانی کرنے کی استطاعت رکھتاہوتواس پرقربانی کرنالازم ہوگا،لیکن اگراس کے پاس رقم موجودنہ ہواورقربانی کرنے کے لیے کسی سے قرض لیناپڑرہاہوتوایسی صورت میں قرض لیکرقربانی کرناضروری نہیں ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کو قرض پر دی ہوئی رقم کی واپسی کایقین ہواوراس کے علاوہ اس کےپاس اپنی روزمرہ ضروریات (گھرکاکرایہ ،گروسری ،یوٹیلیٹی بلز،بچوں کے تعلیمی اخراجات اسکول فیس وغیرہ )سے زائداتنی رقم موجود ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ رہی ہو تواس پرقربانی کرنالازم ہوگاورنہ نہیں ۔
كما في الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب، وكذا لو كان له مال غائب لا يصل إليه في أيامه(5/ 292)
وفي فتاوي البززاية : "له دین حال علی مقر ولیس عنده مایشتریها به لایلزمه الاستقراض ولا قيمة الاضحية إذا وصل الدين إليه ولکن یلزمه أن يسأل منه ثمن الاضحية إذا غلب على ظنه أنه يعطيه.(2/406مطبوعہ کراچی)