میں صرف وقف قربانی کے پیسے دے سکتا ہوں،اسی اثناء ایک جاننے والے نے اپنی بیٹی جس کی عمر تیس سال ہے کو کینسر کائیمو کے لئے پیسے مانگ لیئے ۔اب میں کیا کروں؟
واضح ہو کہ جس شخص پر قربانی واجب ہو، اس کے لیے قربانی چھوڑ کر قربانی کی رقم کسی ضرورت مند یا بیمار کی مدد کو دے دینا شرعاً درست نہیں ہے۔ اس طرح کرنے سے اگرچہ صدقہ کرنے کا ثواب تو مل جائے گا، لیکن واجب قربانی چھوڑنے پر گناہ ہوگا۔
لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں اگر سائل پر قربانی واجب ہے، تو اولاً وہ اپنی قربانی کرے۔ لیکن اگر سائل پر قربانی واجب نہیں ہے یا وہ اپنی واجب قربانی کے علاوہ نفل قربانی کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہو، تو اس صورت میں بھی بہتر یہی ہے کہ دونوں نیکیوں (نفل قربانی اور بیمار کی مدد) کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو، اور سائل جمع کی ہوئی رقم کو نفل قربانی میں صرف کرنے کی بجائے اس سے بیمار کی مدد کر دے، تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز ہے۔
كما في الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: ومنها أنه لا يقوم غيرها مقامها في الوقت، حتى لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزئه عن الأضحية،(5/ 293)
وفي حاشية ابن عابدين = رد المحتار : (فتجب) التضحية: أي إراقة الدم من النعم عملا لا اعتقاداعلى حر مسلم مقيم) بمصر أو قرية أو بادية عيني، فلا تجب على حاج مسافر؛ فأما أهل مكة فتلزمهم وإن حجوا، وقيل لا تلزم المحرم سراج (موسر) يسار الفطرة (عن نفسه لا عن طفله) على الظاهر(ط الحلبي6/ 313)