میں ہر سال قربانی کرتا ہوں۔ اس سال 24 مئی کو میری والدہ فوت ہو گئی ہیں۔ کیا میں اس دفعہ ان کی طرف سے قربانی کر سکتا ہوں؟ اور کیا مجھے الگ سے بھی قربانی اپنے نام کی کرنی ہوگی؟
واضح ہوکہ جس شخص کے ذمہ قربانی کرنا واجب ہو اسے چاہیے پہلے اپنی واجب قربانی کرے، اس کے بعد اگروہ مرحومین کے ایصالِ ثؤاب کی غرض سے قربانی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔لہذاصورت مسئولہ میں سائل کےصاحب استطاعت ہونےکی صورت میں جب اس پرقربانی واجب ہوتی ہےتواسے چاہیےاولاًوہ اپنی واجب قربانی کرنے کااہتمام کرے،پھراستطاعت اورگنجائش کی صورت میں اپنی والدہ مرحومہ کے طرف سےنفلی قربانی کرناچاہے توکرسکتاہےلیکن اپنی واجب قربانی چھوڑکران کی طرف نفل قربانی کرنادرست نہیں ،جس سے احترازچاہیے۔
كما في حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (قوله وعن ميت) أي لو ضحى عن ميت وارثه بأمره ألزمه بالتصدق بها وعدم الأكل منها، وإن تبرع بها عنه له الأكل لأنه يقع على ملك الذابح والثواب للميت، ولهذا لو كان على الذابح واحدة سقطت عنه أضحيته كما في الأجناس. قال الشرنبلالي: لكن في سقوط الأضحية عنه تأمل اهـ. أقول: صرح في فتح القدير في الحج عن الغير بلا أمر أنه يقع عن الفاعل فيسقط به الفرض عنه وللآخر الثواب فراجعه»(6/ 335)