کیا قربانی کرنے والا ذوالحجہ کے دس دنوں میں بیوی کے پاس جاسکتا ہے؟
واضح ہوکہ قربانی کرنے والے کے لیے ذو الحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر قربانی ہونے تک بال، ناخن وغیرہ نہ کاٹنامستحب ہے،اگرچہ فقہاء کرام نے ان امورکےاستحباب کی حکمت تشبہ بالحاج (حج کرنے والے سے مشابہت) بیان فرمائی ہے، لیکن اس مشابہت سےہرگزیہ مرادنہیں کہ شرعی طور پر محرم پراحرام کی حالت میں جتنی پابندیاں لاگوہوتی ہیں قربانی کرنےوالابھی ان سب کاالتزام کرے بلکہ حدیث مبارکہ میں جس قدرمشابہت اختیارکرنے کاحکم دیاہے اسی پراکتفاء کرناکافی ہے ۔لہذا ان ایام میں شوہر کے لیے بیوی کے قریب جانا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما فی سنن الترمذي :عن أم سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى هلال ذي الحجة، وأراد أن يضحي، فلا يأخذن من شعره، ولا من أظفاره(4/ 102)
وفی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح :قال التوربشتي: ذهب بعضهم إلى أن النهي عنهما للتشبه بحجاج بيت الله الحرام المحرمين، والأولى أن يقال: المضحي يرى نفسه مستوجبة للعقاب وهو القتل، ولم يؤذن فيه ففداها بالأضحية، وصار كل جزء منها فداء كل جزء منه، فلذلك نهي عن مس الشعر والبشر ; لئلا يفقد من ذلك قسط ما عند تنزل الرحمة، وفيضان النور الإلهي، ليتم له الفضائل، ويتنزه عن النقائص. قال ابن حجر: ومن زعم أن المعنى هنا التشبه بالحجاج غلطوه بأنه يلزم عليه طلب الإمساك عن نحو الطيب ولا قائل به اهـ.
وهو غلط فاحش من قائله ; لأن التشبه لا يلزم من جميع الوجوه، وقد وجه توجيها حسنا قي خصوص اجتناب قطع الشعر أو الظفر.(3/ 1081)