میری شادی 2011میں ہوئی اور میرے دو بیٹے ہیں ، 2021میں، میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، اور 15 ، 20 دن کے بعد طلاق کے پیپرز بھجوا دیے، پھر 2023 میں میں نے دوسری شادی کی ،اب 2025 میں میں نے پہلی بیوی سے دوبارہ نکاح کیا اور میری پہلی بیوی نے دوسری شادی نہیں کی، میرا سوال یہ ہے کہ نکاح جائز ہے؟ پلیز قرآن کی دلائل سے بتائیں۔نوٹ:وضاحت پوچھنے پر یہ معلوم ہوا کہ شوہر نے صریح الفاظ سے ( میں طلاق دیتا ہوں) تین دفعہ طلاق دی تھی،اس کے بعد تین طلاق کے پیپرزسائن کرکے بھجوادیئے تھے۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے 2021 میں اپنی بیوی کو تین مرتبہ مذکور الفاظ (میں طلاق دیتا ہوں) کہہ دیئے، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی تھی ، جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ، اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے، لہذا سائل کی سابقہ بیوی نے اگر دوسری جگہ باقاعدہ نکاح کر کے وہاں سے علیحدگی حاصل نہ کی ہو، تو فقط تین چار سال کا عرصہ گزرنے کی وجہ سے وہ سائل کے لئے حلال نہیں ہوگی، اس لئے سائل کا اس کے ساتھ دوبارہ کیا گیا نکاح درست نہیں ، بلکہ باطل اور کالعدم ہے، چنانچہ ان دونوں پر لازم ہے کہ وہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور اب تک ساتھ رہنے سے جو گناہ سرزد ہوا ہے، اس پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے مکمل اجتناب کریں ۔
کما قال اللہ تعالی : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرہ :230)۔
و فی صحیح البخاری: عن عائشۃ رضی اللہ عنھا: أن رجلاً طلق إمرأتہ ثلاثاً، فتزوجت فطلق، فسئل النبی صلی اللہ علیہ و سلم: أ تحل للأول؟ قال: "لا، حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الأول" ( باب من أجاز الطلاق الثلاث، ج: 3، ص: 2392، ط: البشری)۔
و فی الھدایۃ: و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها "الخ (کتاب الطلاق، ج: 2، ص: 97، ط: البشری )۔
وفی بدائع الصنائع: و اما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک، وزوال حل المحلیۃ ایضا حتی لایجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر، لقولہ عز و جل (فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ سواء طلقھا ثلاثا متفرقا أو جملۃ واحدۃ الخ( فصل فی حکم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187، ط: ماجدیۃ )۔