کئی مرد سسرال والوں کا بہت کچھ کرتے ہیں اپنی بیوی کی دل جوئی کے لیے اور اپنے بہن بھائیوں کو آخر میں رکھتے ہیں ۔جبکہ میں نے پڑھا ہےکہ تحائف کے زیادہ حقدار اس کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔مجھے جاننا ہے کیا ایک آدمی حسن ِسلوک اور لین دین میں سسرال والوں کو فوقیت دے سکتا ہے بیوی کی ضد یا درخواست پر؟کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ شوہر کہہ دیتے ہیں میرے بھائی بہن کے ہوتے ہوئے میں تمہارے والدین کا کیوں کروں۔جبکہ ان کی بیوی سسرال والوں کو فوقیت دے رہی ہوتی ہے۔اور بھائی کہہ دیتے ہیں میری بیوی بہت اچھی ہے میرے ساتھ ، اس کے ماں باپ کا کرنا میرے لیے ضروری ہے۔یہ سوال میرا پیچھا نہیں چھوڑتے یہ سوچ کر کہ میں اپنی والدہ کی اکلوتی اولاد ہوں، اگر میرے شوہر نے مستقبل میں ایسا رویہ کیا تو ہم دونوں کہاں جائیں گے؟ کئی چیزوں کے لیے مرد کی ضرورت پڑتی ہے۔ایسا ہوا تو میں کیسے اپنی والدہ کو ایسے اکیلا چھوڑ سکتی ہوں؟ابھی تو میں انہیں یہ کہہ دیتی ہوں کہ اگر مجھے اچھا انسان مل گیا توانشاء الله ایک دن یہ مجبوریاں دور ہو جائیں گی، لیکن حقیقتاً میں دل میں بھی ڈرتی ہوں کہ اگر ایسا نہیں ہوا توکیا میری ایسی امید رکھنا صحیح ہے؟آپ نے آپ کے ایک جواب میں کہا تھا کہ ماں باپ خدمت کے محتاج ہوں تو شوہر بیوی کو مجبور کر سکتا ہے تو اگر لڑکی کے والدین غریب ہوں تو وہ کیوں اپنے شوہر کو مجبور نہیں کر سکتی۔کیا لڑکی کے والدین کم محترم ہیں ان کی خدمت سے داماد دوزخ میں چلا جائے گا؟ بیٹی کو بھی تو ماں باپ محنت سے بڑا کرتے ہیں ۔میرا کیا قصور ہے اگر میں لڑکی ہوں تو میں کیوں اپنے والدین کا سہارا نہیں بن سکتی؟ یا عورتیں غلام ہوتیں ہیں کہ شادی کرلی ، اب ساری عمر شوہر کے والدین کی خدمت میں جت جائیں گی اپنے والدین کو چھوڑ کر؟مجھے بھی میرے رب نے آپ مردوں کی طرح آزاد پیدا کیا ہے، مجھے بھی اولاد بنا کر بھیجا ہے۔
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ نے ہر انسان کے حقوق بیان کئے ہیں،اور اللہ تعالیٰ نے نسبی رشتے کی طرح سسرالی رشتے کو بھی اپنی نعمت شمار فرمایا ہے، نکاح کی برکت سے اللہ رب العزت نے لڑکا اور لڑکی کو ساس سسر کی شکل میں ايك اور ماں باپ عطا کیے ہیں، میاں بیوی میں سے ہر ایک کو اخلاقاً ایک دوسرے کے بڑوں کے ساتھ حسنِ سلوک و احترام کرنے کا پابند کیا ہے۔شوہر کو اپنی بیوی کے والدین کو مثل اپنے والدین کے سمجھنا، ان کا ادب و احترام کرنا، بوقتِ ضرورت ان کی مالی خدمت کرنا اور اچھے اخلاق سے پیش آنا چاہیئے، اسی طرح بیوی پر بھی شوہر کے والدین کو اپنے والدین کی طرح سمجھنا، ان کا ادب و احترام مثل اپنے والدین کے کرنا، ضرورت کے وقت ان کی خدمت کرناضروری ہے۔ اگر وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے حقیقی والدین کی طرح اپنے ساس سسر کی عزت و احترام کریں تو یہ ان کے لیے دنیا میں باعثِ خیر و برکت اور آخرت میں باعثِ اجر و ثواب ہوگا۔ لہٰذا سائلہ کو اس سلسلے میں پریشان نہیں ہونا چاہیئے ، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اپنی والدہ کی عافیت کےلئے دعا گو رہنا چاہیئے اور بلا وجہ کے وساوس میں مبتلا ہونے کی بجائے اپنے بہتر مستقبل کےلئے اچھے اور نیک صالح ہم سفر کی تلاش کرنی چاہیئے ،جو سائلہ اور اس کی والدہ دونوں کےلئے بہترین اور خوشگوار زندگی کا سہارا بن سکے۔
مشرکانہ عقائد کے حامل لڑکے کو رشتہ دینا-بدعات میں مبتلاء آباء و اجداد کیلۓ دعاۓ مغفرت کرنا
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0لائیو ٹی وی پروگرامات میں شرکت کرنا کیسا ہے؟/ والد نہ ہو تو بڑے بھائی کا کیا مقام ہے؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0غلط رویوں اور الزام تراشی کی وجہ سے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0شادی شدہ لڑکی کا والدین کو اپنی پریشانیوں سے آگاہ کرنا درست ہے ؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0بھائی کے انتقال کے بعد بھتیجے اور بھتیجیوں کی حق پرورش کا حقدار کون ہوگا؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0جس طرح عورت پر اپنے سسرال کی خدمت فرض ہے تو کیا مرد کو بھی اپنے ساس سسر کی خدمت کرنا ضروری نہیں ؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0کسی کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد صرف اللہ سے معافی مانگنا کافی ہے؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0