نکاح کے بعد شوہر اور بیوی کے درمیان میسج پر بات ہو رہی تھی،پسند کے موضوع پر بیوی نے کہاکہ مجھے آلو گوشت پسند ہے،شوہر نے جواب دیا کہ مجھے بھی آلو گوشت بہت پسند ہے، لگتا ہے ہم دونوں بچھڑے ہوئے بھائی بہن ہیں،ایک بار پھر پسند کے بارے میں بات ہو رہی تھی تو شوہر نے کہا آج تو مجھے تم اپنی بہن جیسی لگ رہی ہو،بیوی نے پوچھاآپ نے ایسا کیوں کہا؟شوہر نے کہاکہ ہم دونوں کی پسند ایک جیسی ہےاس لیے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر شوہر بیوی کو ایسے جملے کہے جیسے ”آج تم بہن جیسی لگ رہی ہو“تو کیا اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟کیا یہ کوئی طلاق یا جدائی کا سبب بنے گا؟یا یہ صرف ایک مذاق یا محاورے کے طور پر کہا گیا جملہ سمجھا جائے گا؟
واضح ہو کہ شوہر کا اگرچہ اپنی بیوی کو بہن سے تعبیر کرنا مکروہ اور نا پسندیدہ عمل ہے، جس سے احتراز کرنا چاہیئے، تاہم اس سے نہ نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے، اور نہ ہی جدائی کا سبب بنتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کا بیوی کو مذکور الفاظ کہنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، بلکہ نکاح بدستور قائم ہے، البتہ آئندہ شوہر کو ایسے جملے بولنے سے گریز کرنا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: ویکرہ قولہ أنت امی و یا ابنتی و یا اختی ونحو الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ: ویکرہ الخ) جزم بالکراھۃ تبعاً للبحر والنھر والذی فی الفتح: وفی أنت أمی لا یکون مظاھراً وینبغی أن یکون مکروھاً قد صرحوا بأن قولہ لزوجتہ یا أخیۃ مکروہ وفیہ حدیث رواہ ابوداؤد "أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسمع رجلا یقول لإمرأتہ یا أخیۃ فکرہ ذلک ونھی عنہ" ومعنی النھی قربہ من لفظ التشبیہ، ولو لا ھذا الحدیث لأمکن أن یقال ھو ظھار الخ(کتاب الطلاق، باب الظھار، ج 3، ص 470، ط: سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: لو قال لھا أنت أمی لا یکون مظاھراً وینبغی أن یکون مکروھاً ومثلہ أن یقول یا ابنتی و یا أختی ونحوہ ولو قال لھا أنت علی مثل أمی أو کأمی ینوی فان نوی الطلاق وقع بائنا، وان نوی الکرامۃ أو الظھار فکما نوی، ھکذا فی فتح القدیر، وان لم تکن لہ نیۃ فعلی قول أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی لا یلزمہ شیئ حملا للفظ علی معنی الکرامۃ کذا فی الجامع الصغیر الخ(کتاب الطلاق، الفصل التاسع فی الظھار، ج 1، ص 507، ط: ماجدیۃ)۔