جناب محترم مفتی صاحب السلام علیکم!
جناب میری بیوی سے میرا جھگڑا ہو گیا، میں نے اسے دو تین تھپڑ بھی مارے ہیں ، اس نے کے کہا ہے کہ مجھے فارغ کر دے ،میں نے کہا کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق طلاق طلاق دیتا ہے،میری طرف سے تو فارغ ہے ۔ دو بچیاں ہیں ، ایک بیٹی چار سال کی ہے، چھوٹی بیٹی ایک سال کی ہے ۔مہربانی فرما کر اگر اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکتا ہے تو برائے کرم مجھے حل بتائیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے مذکور خط کشیدہ الفاظ کے ساتھ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں، تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوباره باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،اب دونوں پر ایک دوسرے سے علیحدگی لازم ہے۔ اور عورت اپنے ایامِ عدّت کے بعد کسی دوسرے مسلمان شخص سے شادی کرنے میں بھی شرعاً آزاد ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230] .
و في الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى ۔تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (1/ 473)۔
و في الدر المختار: كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين اھ (3/ 293)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء، وكذا إذا طلق أشباه: أي بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد اھ (3/ 293)۔