کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ محمد ۔۔۔۔ نے بذریعہ میسج فجر کی نماز کے بعد اپنے سگے بھائی ۔۔۔، بہنوئی ۔۔۔ ، بھانجے ۔۔۔۔ ، شادی شدہ بہن ۔۔۔۔اور دیگر کو باضابطہ ہوش میں کہا، راحیلہ اکرام کو طلاق دی میسج کے ذریعے،راحیلہ اکرام نے باقاعدہ اس میسج کو پڑھا ،اس کے بائیس (22) دن بعد ۔۔۔ نے خود را حیلہ اکرام سے کہا کہ میں نے میسج کے ذریعے اپنے بہن بھائیوں کو کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، تم اپنے مفتیان کرام سے معلوم کرو کہ یہ طلاق ہوئی ہے کہ نہیں؟ میسج کے الفاظ یہ ہیں:
Men rahela ko is ki badmijazie ki wajeh se 3 talaqe dyta houn.
میں راحیلہ کو اس کی بد مزاجی کی وجہ سے تین طلاق دیتا ہوں، کنفرم 4 سے زائد لوگوں کو بذریعہ میسج بھیجا ہے۔
نوٹ: مسمی ۔۔۔۔نے دارالافتاء آکر بذاتِ خود یہ تحریر کروایا کہ میں نے مذکور میسج صرف اپنے بھائی ۔۔۔ کو ایک دفعہ سینڈ کیا، باقی کسی کو میں نے یہ میسج سینڈ نہیں کیا، میں مسمٰی ۔۔۔ مذکورہ بالا میسج کی تصدیق کرتا ہوں کہ یہی وہ میسج ہے، جو میں نے اپنے بھائی کو سینڈ کیا۔
مسمٰی محمد ۔۔۔ نے اگر چہ ایک دفعہ ہی سوال میں مذکور الفاظ بذریعہ میسج اپنے بھائی کو بھیجے ہوں، تب بھی اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في أحكام القرآن للجصاص: قوله تعالى ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره﴾ منتظم لمعان منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة وذكر الزوج يفيد العقد اھ (2/ 88)۔
و في الفتاوى الهندية: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اھ (1/ 378)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. (3/ 246)والله اعلم بالصواب