کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم میاں بیوئی جھگڑوں سے تنگ آکر میں نے ایک طلاق نامہ بنوایا، طلاق نامہ پر وکیل نے دستخط اسی دن کر دیئے تھے ، جس دن طلاق نامہ بنوایا، مگر طلاق نامہ کی ترتیب یہ تھی کہ طلاق دینے کے جملوں میں نسبت مذکور نہیں تھی، وکیل نے کہا تھا کہ معاملہ حد سے بڑھنے لگے،تو آپ طلاق نامہ میں خالی جگہ پر کر دینا، اب میں نے یہ پوچھنا ہے کہ اس طلاق نامہ کی وجہ سے طلاق ہو گئی یا نہیں؟
نوٹ: میری بیوی میرا کہنا نہیں مانتی ، اور پوری پوری رات تنگ کرتی تھی ،اور سوتے ہوئے جگاتی تھی، ہر بات کا الٹا جواب دیتی تھی ،اور منع کرنے کے باوجودکھڑکی میں کھڑی رہتی تھی، ان وجوہات کی بنا پر طلاق دینا درست تھا؟ مذکورہ مسئلہ میں راہ نمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ طلاق نامہ منسلک ہے۔
سائل کے لئے طلاق کے معاملے میں جلد بازی سے کام لینا اگرچہ درست طریقہ نہیں تھا، بلکہ گھر یلو تنازعات کو باہمی افہام و تفہیم کے ذریعہ حل کرنے کوشش کرنی چاہئے تھی، لیکن سائل نے اس کے بجائے منسلکہ طلاق نامہ پر کرتے ہوئے تین طلاقیں تحریر کر کے اس پر دستخط کر دیئے ، تو اس دن ( یعنی تین دسمبر ) سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته اھ (1/ 378)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا حل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛ (3/ 187) والله سبحانه و تعالی اعلم