کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا تقریبا ًایک سال قبل میں نےاپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی ، جس کے بعد رجوع کر لیا تھا، اب تقریباً ایک ماہ قبل پھر ایک اور طلاق دی، پھر جھگڑے اتنے بڑھے کہ معاملہ تھانےتک چلا گیا، ہم نے وکیل سے مشورہ کیا تو اس نے طلاق نامہ بنوانے کا مشورہ دیا، ہم نے اس کے کہنے پر طلاق نامہ بنوالیا، اور میں نے بغیر پڑھے وہ طلاق نامہ سائن کر دیا، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں ؟ اب رجوع کی گنجائش ہے یا نہیں ؟
نوٹ : سائل کی بیوی کا بیان کہ (وہ دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں) سوال کے ساتھ منسلک ہے، جبکہ طلاق نامہ ٹی سی ، ایس، کیا تھا، تو لڑکی کے والد نے وہ طلاق نامہ دروازہ سے واپس کر دیا، وہ میری بیوی تک نہیں پہنچا، اور میں نے دوسری طلاق کے بعد بھی رجوع کر لیا تھا۔ نوٹ : سائل نے تنقیح میں یہ واضح کیا کہ اس نے طلاق نامہ بغیر پڑھے دستخط کیا، مگر اس یہ معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے۔
سائل نے جب پہلی اور دوسری طلاق کے بعد رجوع کر لیا تھا، تو رجوع کے بعد دونوں کے لیے میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا جائز اور درست تھا، البتہ آئیندہ کے لیے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیار حاصل تھا مگر اس کے بعد جب سائل نے منسلکہ طلاق نامہ بنوا کر اس پر دستخط کر دیئے تو اس سے بقیہ ایک طلاق بھی واقع ہو کر مجموعی طور پر تین طلاقوں کے ذریعے حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے (اگر چہ سائل نے طلاق نامہ کو پڑھے بغیر دستخط کئے ہوں )، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی و نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في صحيح البخاري: حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول» (7/ 43)۔
و في التاتارخانية: واما البدعى فنوعان (إلى قوله) فالذي يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثاً في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمات متفرقة . (إلى قوله) و في الهداية فاذا فعل ذلك وقع الطلاق و كان عاصياً اھ (۳/ ۲۴۶)۔
و فى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. (إلی قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اھ (3/ 246)۔
و فيه أیضا: (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى، (إلی قوله) وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث. (3/ 233)۔
و في الهداية شرح البداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } فالمراد الطلقة الثالثة اھ (2/ 10) والله اعلم بالصواب