السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! عورت عدت میں تھی،اس نے ایک اور نکاح کیا اور ہمبستری بھی ہوئی،جبکہ عورت کو معلوم تھا یہ نکاح فاسد ہے اور یہ تعلق زنا ہوگا ،مگر دوسرے شوہر کو نہیں پتہ تھا،وہ بیوی سمجھ کہ ملاپ کر رہا تھا،اب اس عورت پر کیا حکم لاگو ہوگا؟کیا مزید عدت تین حیض الگ سے گزارنے ہونگے؟اور متارکت کے بعد سے حساب العدة شروع ہوگا؟متاركت میں عورت نے ترکتک کہہ دیا،شوہر نہیں کہہ رہا تھا،اسکے بعد کچھ آپس میں رابطہ ہوتا رہا ، کیا یہ رابطہ متارکت پر متاثر ہوگا؟
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃ ً درست اور مبنی بر حقیقت ہو،تو مذکور عورت کا پہلے شوہر کی عدّت میں ہونے کے باوجود جان بوجھ کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا شرعاً ناجائز اور حرام عمل تھا،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے،جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار ،دوسرے شوہر سے فوری طور پر علیحدگی اور آئندہ کے لئے ایسے ناجائز کاموں سے اجتناب لازم ہے،جبکہ شوہر نے اگر لاعلمی میں ایسا کیا ہو،تو وہ اگر چہ گناہ گار نہ ہوگا،تاہم اب علم ہو جانے کے بعد اس پر لازم ہے کہ الفاظِ متارکہ ( میں نے چھوڑ دیا وغیرہ)کہہ کر عورت سے علیحدگی اختیار کرے،چنانچہ شوہر کے الفاظِ متارکت کہنے کے بعد عورت کے ذمّہ دوسرے شوہر کی عدّت بھی لازم ہوگی ،البتہ دونوں عدّتوں کے درمیان تداخل ہوگا، یعنی مثلاً اگر دوسرے شوہر نے دو حیض مکمل ہونے کے بعد اور تیسرے حیض مکمل ہونے سے قبل نکاح کیا تھا ،تو تیسرے حیض سے پاک ہونے پر پہلے شوہر کی عدت ختم ہوجائے گی اور یہ تیسرا حیض دوسرے شوہر کی عدّت کا بھی پہلا حیض شمار ہوگا،یعنی تیسرا حیض دونوں عدّتوں میں سے شمار ہوگا ،اور اس حیض کے گزر جانے کے بعد عورت دو حیض اور گزارے گی، اس کے بعد عورت کی عدّت مکمل ہوجائے گی۔
کما فی الدر المختار: (ويجب مهر المثل في نكاح فاسد) وهو الذي فقد شرطا من شرائط الصحة كشهود الخ
و فی الشامیۃ تحت : (قوله كشهود) ومثله تزوج الأختين معا ونكاح الأخت في عدة الأخت ونكاح المعتدة الخ (مطلب في النكاح الفاسد،ج 3، ص 131،ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً: (وعدة المنكوحة نكاحا فاسدا) فلا عدة في باطل ( الی قولہ) (وإذا وطئت المعتدة بشبهة) ولو من المطلق (وجبت عدة أخرى) لتجدد السبب (وتداخلتا)الخ
و فی الشامیۃ تحت : (قوله: فلا عدة في باطل) فيه أنه لا فرق بين الفاسد والباطل في النكاح، بخلاف البيع كما في نكاح الفتح والمنظومة المحبية، لكن في البحر عن المجتبى: كل نكاح اختلف العلماء في جوازه كالنكاح بلا شهود فالدخول فيه موجب للعدة، أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا، فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونها زنا كما في القنية وغيرها ( الی قولہ ) وفي الدرر: اعلم أن المرأة إذا وجب عليها عدتان، فإما أن يكونا من رجلين، أو من واحد، ففي الثاني لا شك أن العدتين تداخلتا، وفي الأول إن كانتا من جنسين كالمتوفى عنها زوجها إذا وطئت بشبهة، أو من جنس واحد كالمطلقة إذا تزوجت في عدتها فوطئها الثاني وفرق بينهما تداخلتا عندنا ويكون ما تراه من الحيض محتسبا منهما جميعا، وإذا انقضت العدة الأولى ولم تكمل الثانية فعليها إتمام الثانية. اهـ.الخ(مطلب عدة المنكوحة فاسدا والموطوءة بشبهة،ج 3،ص516/518،ط: سعید)۔
و فی البحر الرائق: والمراد بالنكاح الفاسد النكاح الذي لم تجتمع شرائطه كتزوج الأختين معا والنكاح بغير شهود ونكاح الأخت في عدة الأخت ونكاح المعتدة الخ ( باب المھر،ج 1،ص 181،ط:دار المعرفۃ)۔
و فیہ ایضاً: والتفريق في النكاح الفاسد إما بتفريق القاضي أو بمتاركة الزوج ولا يتحقق الطلاق في النكاح الفاسد بل هو متاركة فيه ولا تحقق للمتاركة إلا بالقول إن كانت مدخولا بها كقوله تاركتك أو تاركتها أو خليت سبيلك أو خليت سبيلها أو خليتها أو خليتها،الخ(كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:185، ط: دار الكتاب الاسلامي)۔
و فی الھندیۃ : العدتان تنقضيان بمدة واحدة عندنا كانتا من جنس واحد أو من جنسين صورة الأولى: المطلقة إذا حاضت حيضة، ثم تزوجت بزوج آخر ووطئها الثاني وفرق بينهما وحاضت حيضتين بعد التفريق كان لهذا الزوج الثاني أن يتزوجها لانقضاء عدة الأول وليس لغيره أن يتزوجها حتى تحيض ثلاث حيض من وقت التفريق لقيام عدة الثاني في حق الغير الخ (الباب الثالث عشر في العدة، ج 1، ص 532،ط: ماجدیۃ)۔