کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ گھر میں کچھ لڑائی جھگڑے کے دوران میں نے غصہ میں اپنی بیوی کو تین مرتبہ یہ الفاظ بولے" کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"، لیکن میری بیوی نے دو مرتبہ سنے ہیں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اگر واپس رہنا چاہیں نیز یہ الفاظ میں نے موبائل پر بولے تھے۔ اس واقع کو پانچ مہینے ہو گئے ہیں؟
واضح ہو کہ طلاق واقع ہونے کے لیے بیوی کا الفاظ طلاق سننا ضروری نہیں، بلکہ شوہر کا طلاق کے الفاظ زبان سے کہ دینا یا تحریر کرناو قوع طلاق کے لیے کافی ہے، لہذا سائل کے بیان کے مطابق اگر چہ اس کی بیوی نے دو مرتبہ طلاق کے الفاظ سنے ہیں، مگر سائل نے چونکہ تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بول دیئے ہیں ، اس لیے اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور اب تک جتنا عرصہ طلاق کے بعد ایک ساتھ رہے ہیں اس پر بصدق دل تو بہ واستغفار کریں، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]۔
وفى الدر المختار : (والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عن ذكر العدد، وعند عدمه الوقوع بالصيغة. (3/ 287)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها أنت طالق ثلاثا طلقت ثلاثا اھ (3/ 287)۔
وفيها أیضاً : تحت قوله ثلاثة متفرقة وكذا بكلمة واحدة بالأولى (إلى قوله ) وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - {فماذا بعد الحق إلا الضلال} [يونس: 32]- (3/ 233) والله اعلم بالصواب