کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں جس مسجد میں امام ہوں، اس کے صحن کے بائیں جانب کے حصہ میں سے کچھ حصہ کو لے کر تقریبا چھ سال پہلے وہاں ایک کمرہ بطور اسٹور مسجد کی دریاں وغیرہ رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، یہ کمرہ بنانے سے پہلے وہاں نمازیں بھی ادا کی جاتی رہیں ، اب مسجد کی انتظامیہ مذکورہ کمرہ کو توڑ کر اس میں استنجاء خانہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، تو آیا ایسا کرنا ان کے لیے جائز ہے یا نہیں ؟ ذیل میں مسجد کے نقشہ کی صورت سی بنائی گئی ہے ۔
صحن اگر مسجد ہی کا حصہ تھا، اور عرف اور مسجد کی انتظامیہ کے نزدیک اسے مسجد ہی سمجھا جاتا رہا، اور اس کے ساتھ مسجد ہی کا معاملہ کرتے رہے، تو یہ جگہ اب بھی مسجد ہی ہے ، کسی دوسری مصلحت کے لیے اس کو مسجد سے الگ نہیں کیا جاسکتا، لہذا اس صورتحال میں چھ سال قبل اس جگہ کو نہ تو اسٹور بنانا شرعاً درست تھا، اور نہ ہی اب اس جگہ استنجاء خانہ بناناشر عا جائز ہے، البتہ یہ جگہ اگر مسجد کا با قاعدہ حصہ نہ تھی، تو سوال میں مذکور تصرف کی شرعاً بھی اجازت ہو گی۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ جواہر الفقہ جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 125 پر اپنے رسالہ " آداب المساجد " میں اس بابت لکھتے ہیں:
’’مسجد کے جزو کو مسجد سے علیحدہ کر کے اور کوئی چیز بنانا ہر گز جائز نہیں، اگر چہ مصالح مسجد ہی کے متعلق ہو مثلاً مسجد کے فرش میں حوض بنانا یا زینہ وغیرہ بنانا، البتہ مسجد بنانے کے وقت اول سے حوض وغیرہ کی جگہ متعین کر کے الگ کر لی جائے تو جائز ہے جیسا کہ عموما دستور ہے ‘‘۔
كما في الدر المختار: [فرع] لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية، فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا ولا سكنى بزازية. (4/ 358)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار)؛ (قوله: أما لو تمت المسجدية) أي بالقول على المفتى به أو بالصلاة فيه على قولهما ط وعبارة التتارخانية، وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا یترك اهـ (4/ 358) واللہ اعلم بالصواب
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0