دو سال قبل میرے ایک دوست کی ایک غیر مسلم لڑکے سے جھگڑا ہوا تھا۔ اس جھگڑے میں وہ لڑکا بھی میرے دوست کو مارا۔ اس غصے میں میں نے اس غیر مسلم لڑکے کو لاٹھی سے مار دیا۔ اب مجھے اپنے اس فعل پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے اور میں توبہ کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن اگر میں جا کر اسے یہ سب کچھ بتاؤں تو مجھے خوف ہے کہ حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں کیا صرف اللہ سے توبہ کرنا کافی ہو گا یا مجھے اس سے بھی معافی مانگنی ہوگی؟ اگر یہ ممکن نہ ہو کہ میں آمنے سامنے جا کر یہ بات کہوں، تو کیا میں کسی اور طریقے سے اس کے حقوق ادا کر سکتا ہوں؟
واضح ہوکہ سائل نے جس شخص کو نقصان پہنچایایااس کی حق تلفی کی ہے ،تواسے چاہیے کہ بصدق دل توبہ واستغفارکرنے کےساتھ اگر ممکن ہو تو براہِ راست اس شخص سے اپنی زیادتی کی معافی مانگے اوراگرکوئی مالی نقصان ہواہوتواس کابھی ازالہ کرے ۔محض توبہ واستغفارکرلینااس زیادتی کفارہ نہیں بن سکتاالبتہ اگر براہِ راست معافی مانگنا ممکن نہ ہو توبہتریہ ہے کہ کسی معتمد یا ثالث کے ذریعے اس شخص کواس کا حق پہنچانے اورراضی کرنے کی لازمی کوشش کریں ۔سائل کی مخلصانہ کاوش کے نتیجہ میں اللہ پاک ضرورصلح ومعافی کی سبیل پیدافرمادیں گے۔ان شاءاللہ
كما في مشكاة المصابيح» : وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه» هذا لفظ البخاري ولمسلم قال: " إن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم: أي المسلمين خير؟ قال: من سلم المسلمون من لسانه ويده "(1/ 10)
و في المفاتيح في شرح المصابيح» : قوله: "المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده"؛ يعني: المسلم الكامل في إسلامه من لا يؤذي أحدا بلسانه بالشتم والغيبة والبهتان، ولا يأخذ مال أحد، ولا يضرب أحدا بغير حق، ولا يمد يده إلى امرأة ليست منكوحة ولا مملوكة له.
وإنما اختص اللسان واليد؛ لأن أكثر الإيذاء والضرر يحصل بهذين العضوين، وإلا يمكن إيذاء الناس بالعين والرجل بأن ينظر إلى بيت أجنبي، أو يمشي إلى موضع يتأذى أهل ذلك الوضع من دخوله عليهم.
ومراد النبي بهذا الحديث: أن من ترك إيذاء الناس من جميع الوجوه مع أداء الفرائض بصحيح الاعتقاد، فهو مسلم كامل، ومن لم يترك إيذاء الناس، فهو مسلم ناقص.»(1/ 66)
مشرکانہ عقائد کے حامل لڑکے کو رشتہ دینا-بدعات میں مبتلاء آباء و اجداد کیلۓ دعاۓ مغفرت کرنا
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0لائیو ٹی وی پروگرامات میں شرکت کرنا کیسا ہے؟/ والد نہ ہو تو بڑے بھائی کا کیا مقام ہے؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0غلط رویوں اور الزام تراشی کی وجہ سے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0شادی شدہ لڑکی کا والدین کو اپنی پریشانیوں سے آگاہ کرنا درست ہے ؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0کسی کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد صرف اللہ سے معافی مانگنا کافی ہے؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0