کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری بیٹی اور ہمارے داماد کے درمیان تقریباً آٹھ سال قبل جھگڑا ہوا، اور اسی دوران ہماری بیٹی ہمارے گھر چلی آئی، اور اب جب ان کے سسر بیمار ہوئے، تو ہم نے ان کے پاس اپنی بیٹی کو بھیجا، تو اس پر انہوں نے ہمیں طلاق نامہ دید یا، جو کہ انہوں نے (2018) میں بنوالیا تھا ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ طلاق ہوئی کہ نہیں طلاق نامہ اس کے ساتھ لف ہے۔
منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابق اصل ہو ، اس میں کسی طرح کی جعل سازی نہ کی گئی ہو ،اور سائل کے داماد نے اس طلاق نامہ کو پڑھ کر دستخط کئے ہوں ،توسائل کی بیٹی پر منسلکہ طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالہ شرعیہ دوبارہ با ہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،جبکہ سائل کی بیٹی ایام عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما فى الفتاوى الهندية: فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة اھ (1/ 378) والله اعلم بالصواب