کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
شوہر نے وکیل کو ایک طلاق کا نوٹس تیار کرنے کو کہا، لیکن وکیل نے تین طلاق کا نوٹس تیار کر دیا، اور شوہر نے لاعلمی میں اس پر دستخط کر دیے ، تو اب کتنی طلاقیں واقع ہوں گی ؟ شکریہ!
سوال میں درج بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی پر حقیقت ہو ،اس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ شوہر نے وکیل کو ایک طلاق کا نوٹس تیار کرنے کا کہا ہو اور وکیل نے اپنی طرف سے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنا کر شوہر کے علم میں لائے بغیر اس پر دستخط لے لیے ہوں، تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی، جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کر سکتا ہے۔ جبکہ عدت کے بعد دوبارہ تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا، بہر دو صورت شوہر کے لئے آئندہ دو طلاقوں کا اختیار رہےگا، جب بھی وہ دو طلاقیں دے گا تو اس کی بیوی اس پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو جائےگی۔
ففی الدر المختار: وإذا قال لرجل ذلك أو قال لها طلقي ضرتك (لم يتقيد بالمجلس) لأنه توكيل فله الرجوع إلا إذا زاد وكلما عزلتك فأنت وكيل (إلا إذا زاد إن شئت) فيتقيد به (ولا يرجع) لصيرورته تمليكا في الخانية. (3/ 332)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وفيه عن كافي الحاكم: لو وكله أن يطلق امرأته فطلقها الوكيل ثلاثا إن نوى الزوج الثلاث وقعن وإلا لم يقع شيء عنده وقالا تقع واحدة اھ (3/ 333)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ (إلی قوله) وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا اھ (3/ 246، 247)۔
و في الفتاوى الهندية؛ وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه كذا في المحيط والله أعلم بالصواب اھ (1/ 379)۔
و في التاتار خانیة: وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه اھ (۴/ ۴۳۱)۔