کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض مدارس والے چندہ کرنے والے سفیروں کو فیصد کے حساب سے یعنی جتنا چندہ کرکے وہ لائیں گے اسی اعتبار سے ان کو کمیشن دیتے ہیں تو معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح کمیشن دینا کیسا ہے ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی مدرسہ میں تعاون کا ذریعہ بنے یعنی اس کے واسطے سے کہیں سے چندہ آتا ہے اب پہلی مرتبہ تعاون ہونے پر اس نے اپنا کمیشن بھی وصول کرلیا ، تو کیا اس آدمی کو جس کے ذریعہ یہ تعاون ہوا ہر ماہ فیصد کے اعتبار سے کمیشن دیا جاتا ہے کیا یہ جائز ہے ؟ وضاحت فرمائیں ۔
مزید وضاحت : چندہ جمع کرنے والوں کے ساتھ باقاعدہ کوئی معاہدہ نہیں اور نہ ہی انہیں کوئی ٹاسک دیا جاتا ہے کہ جس میں وقت اور جگہ کا کوئی تعین ہو بلکہ عمومی بات کی جاتی ہے کہ آپ چندہ جمع کریں گے تو آپ کو کمیشن ملے گا ،اور رمضان المبارک میں چونکہ ادائیگی زکوۃ کا اہتمام ہوتا ہے اس لئے اس مہینہ میں اس کا خاص اہتمام ہوتا ہے ،نیز اگر کمیشن دینے کی بات نہ کی جائے تو کوئی چندہ دینے کے لئے تیار نہ ہونگے ۔
صورت مسئولہ میں ذکر کردہ طریقہ کار فقہی اعتبار سے اجارہ کی صورت بنتی ہے، لیکن عقد اجارہ کی درستگی کے لئے اجرت اور عمل دونوں کا معلوم ومتعین ہونا اور اجیر کا بنفسہ اس کام پر قادر ہونا ضروری ہے ،جبکہ چندہ کرنے پر فیصدی کمیشن دینے کی صورت میں چونکہ یہ شرائط نہیں پائی جاتیں لہذا مدارس والوں کا اپنے سفیروں کو چندہ کرنے پر فیصد کے اعتبار سے کمیشن دینے کا معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ،البتہ اس صورت کو فقہاء کرام کے ذکر کردہ ایک صورت جعالہ پر محمول کیا جاسکتا ہے کہ جس میں وقت اور کام کی تحدید کئے بغیر فقط کام کے مکمل کرنے پر وہ شخص انعام کا مستحق ہوتا ہے ، ورنہ کام مکمل نہ ہونے کی صورت میں وہ طے شدہ انعام کا حق دار نہیں ہوتا ،جبکہ فقہاء احناف کے ہاں اگرچہ ایک مخصوص صورت کے علاوہ دیگر معاملات میں اس کی اجازت نہیں ، لیکن ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اس طرح معاملہ چونکہ مطلقا جائز ہے اور فی زماننا خریدو فروخت کے مختلف معاملات اور شعبوں میں اس کا رواج بھی عام ہوچکا ہے ، اس لئے چندہ کراتے وقت اس طرح معاملہ کرنے کی گنجائش ہوسکتی ہے ۔ تاہم انعام کی رقم ایسے فنڈ سے دینے کا اہتمام ضروری ہوگا جو کسی خاص مصرف کے لئے جمع کرنے کے بجائے مدرسہ کے عام مصالح اور مفاد کے لئے جمع کیا گیا ہو ،نیز انعامی رقم دینے کا تعلق چونکہ کسی بھی کام میں عملی کردار ادا کرنے کے ساتھ ہوتا ہے اس لئے چندہ کرنے والا شخص جب تک باقاعدہ چندہ جمع کرنے میں اپنا عملی کردار ادا کررہا ہو ،اس وقت تک تو وہ انعام کا مستحق ہوگا، لیکن ادارے کے ساتھ کسی معاون کا تعلق بنانے کے بعد ہر ماہ طے شدہ انعام کا مستحق نہ ہوگا ،اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتا ہے ۔
کما فی تفسير القرطبي :قوله تعالى :(ولمن جاء به حمل بعير وأنا به زعيم)۔۔۔۔۔۔ قال بعض العلماء : في هذه الآية دليلان : أحدهما - جواز الجعل وقد أجيز للضرورة فإنه يجوز فيه من الجهالة ما لا يجوز في غيره فإذا قال الرجل : من فعل كذا فله كذا صح (196/9)
و فی الھندیۃ:ومنها: أن تكون الأجرة معلومةً. ومنها: أن لاتكون الأجرة منفعةً هي من جنس المعقود عليه كإجارة السكنى بالسكنى والخدمة بالخدمة (411/4)
وفی الموسوعة الفقهية الكويتية : الجعل : لغة ما يجعل للعامل على عمله ۔۔۔۔ واصطلاحا : المال المعلوم سمي في الجعالة لمن يعمل عملا مباحا ولو كان مجهولا في القدر أو المدة أو بهما فالفرق بينه وبين الجائزة أن الجائزة عطية بلا مقابل (77/15)
وفیہ ایضاً :أن يقول الإنسان مثلاً: من بنى لي هذا الجدار، أو خاط هذا الثوب، أو رَدَّ هذا الفرس فله كذا مالاً، فمن فعله استحق الجعل (487/2 ط:موقع الدرر السنية )
وفی المغني لابن قدامة : وجملة ذلك أن الجعالة في رد الضالة والآبق وغيرهما جائزة. وهذا قول أبي حنيفة، ومالك والشافعي. ولا نعلم فيه مخالفا. والأصل في ذلك قول الله عز وجل: {ولمن جاء به حمل بعير وأنا به زعيم} [يوسف: 72] . وروى أبو سعيد «أن ناسا من أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أتوا حيا من أحياء العرب، فلم يقروهم، فبينما هم كذلك إذ لدغ سيد أولئك، فقالوا: هل فيكم راق؟ فقالوا: لم تقرونا، فلا نفعل حتى تجعلوا لنا جعلا فجعلوا لهم قطيع شياه، فجعل رجل يقرأ بأم القرآن، ويجمع بزاقه ويتفل، فبرأ الرجل، فأتوهم بالشاء، فقالوا: لا نأخذها حتى نسأل عنها رسول الله - صلى الله عليه وسلم -. فسألوا النبي صلى الله عليه وسلم - فقال: وما أدراك أنها رقية؟ خذوها، واضربوا لي معكم بسهم» . رواه البخاري. ولأن الحاجة تدعو إلى ذلك، فإن العمل قد يكون مجهولا، كرد الآبق والضالة ونحو ذلك 94/6)
وفی المجموع لمحی الدین النووی: يجوز عقد الجعالة وهو أن يبذل الجعل لمن عمل له عملا من رد ضالة ورد آبق وبناء حائط وخياطة ثوب وكل ما يستأجر عليه من الاعمال ۔۔۔۔ ولان الحاجة تدعو إلى ذلك من رد ضالة وآبق وعمل لا يقدر عليه فجاز كالاجارة والمضاربة. 113/15)
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0