کیا فرماتے ہیں مفتیان کران اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک دکان میں کام کرتا ہوں اور دکان کی ساری ذمہ داری مجھ پر ہے، اور ہمیں دکان کے لیے ایک مشین لینی تھی، تو میرے سیٹھ نے کہا تھا کہ آپ دکان سے روزانہ ایک یا دوہزار اٹھایا کریں، اپنے پاس جمع کریں، اور مشین لے لیں، کیونکہ دکان کے پیسے میرے ہاتھ میں ہے تو میں نے مالک کی اجازت سے تیس (30) ہزار روپے جمع کیے ہیں اب تک ہماری پرانی مشین چل رہی ہے، لیکن مجھے ایک اپنی ذاتی ضرورت پیش آئی ہے، اب میں ان پیسوں کو دس دن تک اپنی ضرورت میں لگا سکتا ہوں یا نہیں؟ پھر دس دن بعد واپس کرونگا اور یہ بھی بتائیں کہ اگر ان پیسوں میں سے دس دن کے اندر جو نفع حاصل ہوگا، تو اس کا کیا حکم ہے، اکیلا میں لوں گا، یا کہ ہم دونوں تقسیم کریں گے، آپ مفتیان گرامی اس مسئلے کو فقہ اور حدیث کی روشنی سے وضاحت فرمائیں۔
مالک کی اجازت کے بغیر اس کی رقم کو اپنی ذاتی ضرورت میں خرچ کرنا بلاشبہ خیانت ہے جو جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر مالک دوکان سے چند دن کے لیے قرض لیکر اپنی ضرورت پوری کر کے اس کی رقم اسے لوٹا دی جائے تو شرعاً اس کی اجازت ہے، اور اس صورت میں تمام نفع سائل کا ہی شمار ہوگا۔
کما فی البیہقی: عن ابی حرۃ الرقاشی، عن عمّہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال (لایحل مال امرئ مسلم الا بطیب نفس منہ) (6/166)۔
و فی الدرالمختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه الخ (6/200)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0