السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ!محترم مفتی صاحب !عرض یہ ہےکہ جاوید علی اور سجاد علی دونوں سگے بھائی ہیں،جاوید علی کے تین بیٹے ہیں ،بڑا بیٹا( جواد علی) درمیانہ بیٹا( فواد علی) چھوٹا بیٹا( مراد علی)۔
سجاد علی کے دو بچے ہیں، بیٹا( حماد علی)بیٹی( جلوہ علی )حماد علی بن سجاد علی نے جاوید علی کی بیوی کا دودھ پیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا حماد علی کی بہن جلوہ علی، جاوید علی کے کسی بیٹے سے نکاح کر سکتی ہے؟شریعت کی روشنی میں اس کا حکم بیان فرما دیں۔
واضح ہوکہ مدتِ رضاعت میں دودھ پینے کی وجہ سےصرف دودھ پینے والے/والی کا رشتہ مرضعہ اور اس کےاصول وفروع اور شوہرکے ساتھ حرام ہوتا ہے،اس کے دیگر بہن بھائیوں کا رشتہ حرام نہیں ہوتا،لہذا صورتِ مسؤلہ میں مسماۃ جلوہ علی نے اگر مدّتِ رضاعت میں اپنی چچی کا دودھ نہ پیا ہو،او نہ ہی جاوید علی کے اس بیٹے نے(جس سے نکاح کیا جارہا ہے ) جلوہ علی کی والدہ (چچی )کا دودھ پیا ہوتو ایسی صورت میں جلوہ علی کا نکاح اپنے چچا زاد بھائیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہوگا، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جارہی ہو۔
کما فی الدر المختار :(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر اھ (3/ 217)۔
وفی المبسوط للإمام السرخسي: ولو أن امرأتين لإحداهما بنون وللأخرى بنات فأرضعت التي لها البنات ابنا من بني الأخرى، فإنما تحرم بناتها على ذلك الابن بعينه؛ لأنه صار أخا لهن من الرضاعة، ولا يحرم أحد من بناتها على سائر بني المرأة الأخرى؛ لأنه لم يوجد بينهم الأخوة من الرضاعة حيث لم يجتمعوا على ثدي واحد، ولو كانت المرأة التي لها البنون أرضعت إحدى بنات الأخرى حرمت تلك الابنة على بني المرضعة وغيرها من بناتها يحل على المرضعة، ولو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وحدها؛ لأنها أختهم من الرضاعة اھ(30//301)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0