میں اپنی خالہ کا بھانجا ہوں، تو کیا میں اُن کا محرم ہوں؟ اگر ہاں، تو کیا میرا بیٹا بھی اُن کا محرم ہوگا یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ خالہ قرآن کریم کی واضح نص کی رو سے محرماتِ ابدیہ( جن کے ساتھ نکاح کرنا ہمیشہ کے لئے حرام ہے)میں داخل ہے، سائل اپنی خالہ کا بھانجا ہونے کی وجہ سے بلاشبہ ان کا محرم ہے، اسی طرح سائل کی خالہ چونکہ سائل کے بیٹے کے لئے اس کی دادی کی بہن ہے،اور جس طرح دادی محارم میں سے ہے،اسی طرح دادی کی بہنیں بھی محارم میں داخل ہیں۔
قالہ اللہ تعالی : حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ الایۃ( سورۃ النساء،جز نمبر 4،آیت نمبر 23)۔
و فی النتف في الفتاوى للسغدی: والصنف الثالث الاخوة والاخوات من اي وجه كانوا لاب وام أو لاب أو لام وأولاد جميعهم وان بعدوا الخ (وجوه الحرمة المؤبدة، ج 1،ص 253،ط: دار الفرقان / مؤسسة الرسالة)۔
و فی الھندیۃ: (القسم الأول المحرمات بالنسب) وهن الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات( الی قولہ) وأما الخالات فخالته لأب وأم وخالته لأب وخالته لأم وخالات آبائه وأمهاتهاالخ ( القسم الاول المحرمات بالنسب،ج1،ص 273 ،ط:ماجدیۃ)۔
و فی الدر المختار: أسباب التحريم أنواع: قرابة، ( الی قولہ)(حرم) على المتزوج ذكرا كان أو أنثى نكاح (أصله وفروعه) علا أو نزل (وبنت أخيه وأخته وبنتها) ولو من زنى (وعمته وخالته) فهذه السبعة مذكورة في آية - {حرمت عليكم أمهاتكم} [النساء: 23] الخ
و فی الشامیۃ تحت: قوله: قرابة) كفروعه وهم بناته وبنات أولاده، وإن سفلن، وأصوله وهم أمهاته وأمهات أمهاته وآبائه إن علون وفروع أبويه، وإن نزلن فتحرم بنات الإخوة والأخوات وبنات أولاد الإخوة والأخوات، وإن نزلن وفروع أجداده وجداته ببطن الخ(فصل في المحرمات،ج 3،ص 28،ط:سعید)۔