میری عمر پندرہ سال ہے،کیا میں قربانی کرسکتا ہوں؟
وا ضح ہو کہ قربانی ہر اس عاقل بالغ مقیم مسلمان مرد و عورت پر واجب ہوتی ہے، جس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر مالِ تجارت ، نقد رقم یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہو،جبکہ 15 سال کی عمر لڑکے و لڑکی کےبلوغت کی آخری حد ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل چونکہ بالغ ہے اس لئے اگر وہ صاحبِ نصاب( یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باؤن تولہ چاندی یا اس کے بقدر نقدی اور مالِ تجارت ) ہو ،تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ قربانی کرنا لازم و ضروری ہے ،اور اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہو،لیکن نفلی قربانی کرنا چاہےتو یہ بھی بلاشبہ باعث اجر و ثواب ہے،مگر یہ قربانی اس پر لازم نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار: و شرائطھا الإسلام و الإقامۃ و الیسار الذی یتعلق بہ وجوب صدقۃ الفطر کما مر لا الذکورۃ فتجب علی الأنثی خانیۃ۔إلخ
و فی رد المحتار تحت: (قولہ و الیسار إلخ) بأن ملک مائتی درھم أو عرضا یساویھا غیر مسکنہ و ثیاب اللبس أو متاع یحتاجہ إلی أن یذبح الأضحیۃ إلخ(کتاب الأضحیۃ، ج: 6، ص: 312،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الدر: (فتجب) التضحیۃ: أی إراقۃ الدم من النعم عملا لا اعتقادا (إلی قولہ) (علی حر مسلم مقیم) بمصر أو قریۃ أو بادیۃ عینی، فلاتجب علی حاج مسافر، فأما أھل مکۃ فتلزمھم وإن حجوا، وقیل لاتلزم المحرم سراج (موسر) یسار الفطرۃ (عن نفسہ لا عن طفلہ) علی الظاھر بخلاف الفطرۃ (شاۃ) إلخ(کتاب الأضحیۃ، ج: 6، ص: 312۔314، ط: سعید)۔