میں نے اپنی بیوی کو ایک تحریری طلاق دی تھی، لیکن میرا ارادہ صرف رجوع کرنے کا تھا۔ بعد میں میں نے گواہوں کی موجودگی میں زبانی طور پر رجوع کا اعلان کیا، اور اپنی بیوی سے شہوت کے ساتھ جسمانی رابطہ بھی ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں میرا رجوع درست ہوگیا ہے یا میری بیوی سے تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے؟
صورت مسئولہ میں میاں بیوی کے درمیان رخصتی و خلوت صحیحہ ہو جانے کے بعد اگر سائل واضح اور صریح الفاظ مثلا میں طلاق دیتا ہوں وغیرہ کے ذریعہ بیوی کو فقط تحریری طور پر ایک طلاق دی ہو ،اس سے قبل یا بعد میں مزید کوئی طلاق نہ دی ہو،تو ایسی صورت میں بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی تھی،جس کے بعد سائل کو دوران عدت رجوع کا اختیار حاصل تھا،چنانچہ اس دوران اگر سائل نے بیوی سے منہ زبانی رجوع کہہ کر یا عملاً اسے شہوت سے چھو کر رجوع کر لیا ہو،تو شرعا بھی یہ رجوع درست ہو کر دونوں کا نکاح حسب سابق برقرار ہےاور ان کا ساتھ رہنے کے لیے تجدید نکاح کرنا لازم نہیں،لیکن آئندہ کے لیے سائل کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہے،اس لیے آئندہ کے لیے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الھندیہ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض کذافی الھدایہ الخ۔ (كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، ج:1، ص:470، ط:رشيدية)۔
و فی بدائع الصنائع: أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت الخ۔ (کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق، ج:3،ص:120،ط: دار الكتب العلمية)۔
وفی الفتاوی الھندیہ: إذا كان الطلاق بائناً دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها الخ۔ (كتاب الطلاق، الباب السادس ج:1، ص: 473، ط: دار الفكر)۔
وفی رد المحتار: تحت قولہ(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) (الی قولہ) (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس (الی قولہ) (قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل (الی قولہ) (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح الخ۔ (کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:397، ط:سعید)۔