السلام علیکم!
مفتی صاحب آپ سے معلوم کرنا ہے کہ ایک طلاق دینے کے بعد رجوع کا کیا طریقہ ہے کیونکہ سسرال والوں کے ہاں جا کر رجوع کرنا ممکن نہیں ( ان کا طرز عمل ٹھیک نہیں ہے ) ۔ ان کا کہنا ہے کہ رجوع کے لیے ہم بستری کرنا ضروری ہے ۔27 ستمبر کو ایک طلاق دی تھی اور 28 ستمبر کو ان کے گھر والے ان کو اپنے ساتھ لے گئے ،ان کے ساتھ فون پر اور واٹس اپ پر رابطہ ہے، اب آپ بتائیں کہ رجوع کس طرح کیا جائے ۔ کیا واٹس ایپ، فون پر یا کوریئر خط سے رجوع کیا جا سکتا ہے؟ یا اور کوئی طریقہ ہے تو وہ بھی بتا دیں خاص کر ہم بستری کا بتائیں، کیا وہ لازم ہے؟
نوٹ: الفاظ طلاق صرف ایک مرتبہ بولے ہیں "۔۔۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"
صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو جب مذکور الفاظ "۔۔۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" ایک بار کہے، تو اس سے اس کی بیوی پر ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی ہے، جس کے بعد شوہر کو دوران عدت رجوع کا اختیار حاصل ہے،چنانچہ اس دوران اگر شوہر بیوی سے منہ زبانی رجوع کرنا چاہتا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ منہ زبانی الفاظ رجوع جیسے "میں رجوع کرتا ہوں" کہہ دے، اور احتیاطاً اس زبانی رجوع پر دو گواہ بھی بنا دے اور ان رجوع کے الفاظ پر مشتمل میسج بھی اہلیہ کو ارسال کر دے، اس طرح کرنے سے شرعا بھی یہ رجوع درست ہو کر دونوں کا نکاح حسب سابق برقرار رہے گا۔
جبکہ رجوع کی درستگی کے لیے عملا ہم بستری کرنا لازم نہیں، لہذا سائل کے سسرال والوں کا رجوع کے لیے ہم بستری کرنے کو لازم کہہ کر میاں بیوی کے درمیان تفریق کی کوشش کرنا درست طرز عمل نہیں جس سے انہیں احتراز چاہیے، لیکن اگر شوہر ایام عدت میں رجوع نہ کرے تو عدت گزرنے سے یہ رجعی طلاق، طلاق بائن بن جائے گی اور اس سے دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہو جائے گا، اور عورت ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی، البتہ اگر میاں بیوی اس کے بعد باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہیں، تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہاں کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں، بہر صورت آئندہ کے لیے شوہر کو فقط دو طلاق کا اختیار ہوگا اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط لازم ہے۔
کما فی الھندیہ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض کذافی الھدایہ الخ۔ (كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، ج:1، ص:470، ط:رشيدية)۔
و فیہ ایضاً : والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة (الی قولہ) قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة الخ۔ (باب الرجعة،ج:2،ص:405،ط:رحمانية)۔