السلام علیکم، اگر میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہو اور شوہر غصے میں کہے کہ: 'میں نے تمہیں آزاد کر دیا، فارغ کر دیا'، تو اس کا کیا مطلب ہوگا؟ مہربانی فرما کر وضاحت کریں۔ جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ بیوی کیلئے" میں نے تمہیں آزاد کر دیا " کے الفاظ کا استعمال چونکہ عرف میں صریح طلاق کیلئے کیا جاتا ہے، اس لئے اس سے بلانیت بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے،لہٰذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران جب بیوی کو مذکور الفاظ" میں نے تمہیں آزاد کر دیا " کہے تو اس سے بیوی پر ايك طلاقِ رجعی واقع ہو گئی تھى،جسکے بعد شوہر کو دورانِ عدّت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا،اور آئندہ کیلئے اسکے پاس فقط دو طلاق کا اختیار باقی تھا،جبکہ" فارغ كرديا " کے الفاظ سے عند القرینہ بلانیت بھی طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے ، لہذا اگر شوہر نے لڑائی کے دوران اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " فارغ کر دیا " کہہ دئیے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پرایک طلاق بائن واقع ہو کر مذکور میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو اسکے لئے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئےحق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کرنا لازم ہوگا، تاہم اس نکاح کے بعد مذکور شخص کے پاس آئندہ کیلئے أيك طلاق کا اختیار باقی رہیگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
كما في الفتاوى الهندية: الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري … والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. [(1/ 375)]
وفی ردالمحتار: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولو لا ذلك لوقع به الرجعي. اھ [باب الكنايات، ط ايچ ايم سعيد (3/ 299)]
وفي الھدایۃ: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي" لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص "ولا يفتقر إلى النية" لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال "وكذا إذا نوى الإبانة" لأنه قصد تنجيز ما علقه الشرع بانقضاء العدة فيرد عليه. [(1/ 225)]
وفيه أيضاً: وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها" لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه. [باب الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة (2/ 257)]