السلام علیکم میری بہن دو طلاق کا دعوی کر رہی ہے، اس کا شوہر انکار کر رہا ہے اور دو بار قرآن پر بھی قسم اٹھا چکا ہے مگر اس پر تسلیم نہیں کر رہی اور نہ ہی علماء کے پاس جاکر شرعی حل کی طرف آرہی ہے اور عدالت میں خلع کی اپلیکیشن دے دی ہے اس کا شرعی حکم کیا ہو گا؟
صورت مسؤلہ میں سائل کی بہن اور بہنوئی پر لازم ہے کہ وہ دونوں کسی مستند دار الافتاء سے رجوع کریں اور انہیں واقعی صورت حال سے آگاہ کر کے حکم شرعی معلوم کر کے اس پر عمل کریں بصورت دیگر شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت سے لی گئی یکطرفہ خلع کی ڈگری صحت خلع کے بنیادی شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے غیر معتبر ہو سکتی ہے اس لئیے شرعی حکم معلوم کیئے بغیر عدالت سے خلع لینے سے احتراز لازم ہے۔
وفی الھدا یۃ وان اختلفا فی الشرط فالقول قول الزوج الا ان تقیم المراۃالبینۃ(ج:2 ص:386 ناشر مکتبہ شرکت علمیہ)
وفی الفتاوی الھندیۃ وکذالک ان سمعت طلاقہا ثلاثا وجحد الزوج ذالک وحلف فردہا علیہ القاضی(ج:4 ص 313 ناشر ماجیدیہ)
کما فی المبسوط للسرخسی : والخلع جائز عند السلطان وغیرہ لانہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وہو بمنزلۃ الطلاق (ج:6 ص: 173 )
وفی رد المختار خلعھااو طلقہا بخمراو خنزیر او میتۃ ونحوھامما لیس بمال وقع طلاق بائن فی الخلع (ج:3 ص:446 ناشر سعید)