حقوق مسجد

مسجد کی جگہ نہر بنانے کا حکم

فتوی نمبر :
88662
| تاریخ :
2025-11-09
عبادات / احکام مسجد / حقوق مسجد

مسجد کی جگہ نہر بنانے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ کچھ لوگ حکومت کی طرف سے نہر بنا رہے ہیں، جس کی چوڑائی سوفٹ ہے اور آگے پرانی مسجد کی جگہ آئی ہے، جو اب مسجد نہیں صرف کھنڈرات ہیں۔ تقریباً سو میٹر کے قریب ایک جامع مسجد بھی بنی ہوئی ہے۔ تو اب پوچھنا یہ ہے کہ اس مسجد کی جگہ نہر بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اور واقف اس پرانی مسجد کی جگہ متبادل زمین دینے کےلئے بھی تیار ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جب کسی جگہ شرعی مسجد بن جاتی ہے تو وہ ہمیشہ کے لیے مسجد کے حکم میں باقی رہتی ہے،عام حالات میں بلا ضرورت مسجد کو شہید کرکے متبادل جگہ کی طرف منتقل کرنا شرعاً جائز نہیں۔ البتہ مسجد کے غیرآباد اور ویران ہونے کی صورت میں جب سامان ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہو یا ضرورتِ شدیدہ کے وقت حکومت اس ویران اور غیر آباد مسجد کوشہید کرکے مفادِ عامہ کی خاطر اس جگہ کو استعمال کرناچاہتی ہواورمسجدکی جگہ کوبرقراررکھنے میں مفادعامہ کاشدید حرج لازم آتاہواور اس جگہ کے متبادل دوسری جگہ پر مسجد بناکردینے کےلئے بھی تیار ہو تو اس صورت میں بامرمجبوری بعض فقہاء کرام نے مسجدکی جگہ کے تبادلے کی اجازت دی ہے ۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں جب مذکورہ مسجد اتنی پرانی ہوگئی کہ اس کے اب صرف کھنڈرات باقی ہیں اور عملی طورپروہاں باقاعدہ نمازپنجگانہ کابھی اہتمام نہیں ہوتا اورحکومت اس بوسیدہ مسجد کوشہید کرکے اس جگہ نہر بنانے کا فیصلہ کرچکی ہواورنہرکااس جگہ سے گزرناعوامی مصلحت اورمفادکے لیے ضروری ہواورحکومتی فیصلے کے خلاف صدائے احتجاج بلندکرنے سے فتنہ وفساد کااندیشہ قوی ہو اورواقف متبادل جگہ دینے کاوعدہ بھی کرچکاہوتو اس صورت میں مذکورمسجدکی جگہ اجرائے نہرکے لیے حکومت کے حوالے کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (و لو خرب ما حولہ و استغنی عنہ یبقی مسجدا عند الإمام و الثانی) أبدا إلی قیام الساعۃ (و بہ یفتی) حاوی القدسی (و عاد إلی الملک) أی ملک البانی أو ورثتہ (عند محمد) و عن الثانی ینقل إلی مسجدا آخر بإذنی القاضی (إلی قولہ) (جعل شیئ) أی جعل البانی شيئا(من الطريق مسجدا) لضيقه و لم يضر بالمارين(جاز) لأنھما للمسلمين(كعكسه)أي كجواز عكسه و هو ما إذا جعل فی المسجد ممر لتعارف أهل الأمصار فی الجوامع(إلی قولہ) (کما جاز جعل) الإمام (الطریق مسجدا لا عکسہ) لجواز الصلاۃ فی الطریق لا المرور فی المسجد إلخ۔
وفی الشامیۃ: تحت(قوله: و عن الثانی إلخ)جزم به فی الإسعاف حيث قال : و لو خرب المسجد، وما حوله وتفرق الناس عنه لا يعود إلى ملك الواقف عند أبي يوسف فيباع نقضه بإذن القاضی و يصرف ثمنه إلى بعض المساجد (إلی قولہ) (قوله : إلى أقرب مسجد أو رباط إلخ) لف و نشر مرتب و ظاهره أنه لا يجوز صرف وقف مسجد خرب إلى حوض و عكسه و فی شرح الملتقى يصرف وقفھا لأقرب مجانس لھا (إلی قولہ)و الذي ينبغی متابعة المشايخ المذكورين فی جواز النقل بلا فرق بين مسجد أو حوض، كما أفتى به الإمام أبو شجاع و الإمام الحلواني و كفى بھما قدوة ، و لا سيما فی زماننا فإن المسجد أو غيره من رباط أو حوض إذا لم ينقل يأخذ أنقاضه اللصوص و المتغلبون كما هو مشاهد و كذلك أوقافه يأكلھا النظار أو غيرهم ، و يلزم من عدم النقل خراب المسجد الآخر المحتاج إلى النقل إليه (إلی قولہ)(قوله: کعکسہ) فیہ خلاف کما یأتی تحریرہ و ھذا عند الاحتیاج کما قیدہ فی الفتح فافھم (إلی قولہ) (قولہ کعکسہ) یعنی لا یجوز أن یتخذ المسجد طریقا و فیہ نوع مدافعۃ لما تقدم إلا بالنظر للبعض و الکل شرنبلالیۃ۔ قلت: إن المصنف قد تابع صاحب الدرر مع أنہ فی جامع الفصولین نقل أولا جعل شیئا من المسجد طریقا و من الطریق مسجدا جاز ثم رمز لکتاب آخر، لو جعل الطریق مسجدا یجوز لا جعل المسجد طریقا لأنہ لا تجوز الصلاۃ فی الطریق فجاز جعلہ مسجدا، و لا یجوز المرور فی المسجد فلم یجز جعلہ طریقا اھ و لا یخفی أن المتبادر أنھما قولان فی جعل المسجد طریقا بقرینۃ التعلیل المذکور، و یؤیدہ ما فی التاتارخانیۃ عن فتاوی أبی اللیث، و إن أراد أھل المحلۃ أن یجعلوا شیئا من المسجد طریقا للمسلمین فقد قیل لیس لھم ذالک و أنہ صحیح، ثم نقل عن العتابیۃ عن خواھر زادہ إذا کان الطریق ضیقا و المسجد واسعا لا یحتاجون إلی بعضہ تجوز الزیادہ فی الطریق من المسجد لأن کلھا للعامۃ اھ و المتون علی الثانی، فکان ھو المعتمد لکن کلام المتون فی جعل شیئ منہ طریقا، و أما جعل کل المسجد طریقا فالظاھر أنہ لا یجوز قولا واحدا نعم فی التاتارخانیۃ سئل أبو القاسم عن أھل مسجد أراد بعضھم أن یجعل المسجد رحبۃ و الرحبۃ مسجدا أو یتخذ لہ بابا أو یحولو بابہ عن موضعہ، و أبی البعض ذالک قال إذا اجتمع أکثرھم و أفضلھم لیس للأقل منعھم اھ۔ قلت: و رحبۃ المسجد ساحتہ، فھذا إن کان المراد بہ جعل بعضہ رحبۃ فلا إشکال فیہ و إن کان المراد جعل کلہ فلیس فیہ إبطالہ من کل جھۃ لأن المراد تحویلہ بجعل الرحبۃ مسجدا بدلہ بخلاف جعلہ طریقا تأمل إلخ۔ (کتاب الوقف، مطلب فی جعل شیئ من المسجد طریقا، ج 4، ص358۔378، ط:سعید)۔
و فیھا أیضا:تحت(قولہ إلا فی أربعۃ) إذا غصبہ غاصب و أجری علیہ الماء، حتی صار بحرا، فیضمن القیمۃ، و یشتری المتولی بھا أرضاً بدلا۔ الثالثۃ: أن یجحد الغاصب ولا بینۃ: أی وأراد دفع القیمۃ، و للمتولی أخذھا، یشتری بھا بدلا إلخ۔ (کتاب الوقف مطلب:لا یستبدل العامر إلا فی أربع، ج 4، ص 388، ط:سعید)۔
و فی تبیین الحقائق:قال رحمه الله (و إن جعل شیئ من الطريق مسجدا صح كعكسه) معناه إذا بنى قوم مسجدا و احتاجوا إلى مكان ليتسع فأدخلوا شيئا من الطريق فی المسجد و كان ذلك لا يضر بأصحاب الطريق جاز ذلك ( إلی قولہ) و قوله كعكسه أی كما جاز عكسه و هو ما إذا جعل فی المسجد ممر لتعارف أهل الأمصار فی الجوامع و جاز لكل أحد أن يمر فيه حتى الكافر إلا الجنب و الحائض و النفساء لما عرف فی موضعه و ليس لھم أن يدخلوا فيه الدواب إلخ۔ (کتاب الوقف، فصل من بنی مسجدا لم یزل ملکہ، ج 3، ص 331۔332، ط: المطبعۃ الکبری الأمیریۃ)۔
و فی حاشیۃ الشلبی: و كتب ما نصه قال الكمال و في كتاب الكراهية من الخلاصة عن الفقيه أبي جعفر عن هشام عن محمد أنه يجوز أن يجعل شيء من الطريق مسجدا أو يجعل شيء من المسجد طريقا للعامة اهـ يعني إذا احتاجوا إلى ذلك و لأهل المسجد أن يجعلوا الرحبة مسجدا و كذا على القلب و يحولوا الباب أو يحدثوا له بابا و لو اختلفوا ينظر أيھم أكثر ولاية له ذلك و لھم أن يھدموه ليجددوه و ليس لمن ليس من أهل المحلة ذلك و كذا لھم أن يضعوا الحباب و يعلقوا القناديل و يفرشوا الحصر كل ذلك من مال أنفسھم و أما من مال الوقف فلا يفعل غير المتولي إلا بإذن القاضي إلخ۔ (کتاب الوقف، فصل من بنی مسجدا لم یزل ملکہ، ج 3، 331، ط: المطبعۃ الکبری الأمیریۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88662کی تصدیق کریں
0     321
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • روڈ کٹنگ کی وجہ سے مسجد کو اپنی جگہ سے آگےبڑھانا

    یونیکوڈ   اسکین   حقوق مسجد 0
  • گورنمنٹ کی جگہ بلااجازت مسجدبنانا

    یونیکوڈ   اسکین   حقوق مسجد 1
  • نئی مسجد کی تعمیر کے بعد پرانی مسجد منہدم کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   حقوق مسجد 1
  • پلاٹنگ کرتے ہوۓ ، مسجد کیلۓ پلاٹ مختص کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مارکیٹ کی چھت کو بطورِ مسجد استعمال کرنے سے متعلق چند سوالات

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • عام راستے کو مسجد میں شامل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مؤکلین ،جنات کی حقیقت اور ان کے تصرفات

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 1
  • پرانی عیدگاہ کو مسجد بنانے کا حکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 1
  • مسجد میں چہل قدمی کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 1
  • مسجدِ شرعی کے ہوتے ہوۓ ،قریب مکان میں جماعت کرانا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 2
  • عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 3
  • حدودِ مسجدمیں سے کچھ حصہ جوتوں کے لۓ مختص کرنا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • نمازِ جمعہ کے لۓ وقف کی گئی زمین کو مسجد کا حصہ بنانا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کے کچھ حصہ کو استنجاء خانہ کے لۓ استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کے لیے وقف کی ہوئی جگہ میں بیت الخلاء اور مدرسہ بنانا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 2
  • ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کے لیے وقف جگہ پر سکول بنانا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کے لئے وقف شدہ زمین کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 1
  • واقف کے بیٹوں کا زمین کسی پر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • دفترمیں باجماعت نماز پڑھنے کاحکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کو صدقہ یا ہدیہ دے سکتے ہیں یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد کے ایک حصے کو مدرسۃ البنات کے ساتھ خاص کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • مسجد میں شامل کئے گئے راستے کو دوبارہ راستہ بنانا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
  • غیر مسلم کا پیسہ مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   حقوق مسجد 0
Related Topics متعلقه موضوعات