کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ھذا کے بارے میں کہ: آج کل لوگوں میں ایک نیا مسئلہ چل پڑا ہے کہ جس گھر میں میت ہوجائے، میت کو دفن کرنے کے بعد تین دن تک دعا کرنے کیلئے میت والے بیٹھتے ہیں، لوگ دعا کرنے کیلئے آتے ہیں اور دعا کرکے چلے جاتے ہیں، لیکن تیسرے دن پھر ایک وقت تمام عزیز و اقارب جمع ہوتے ہیں، اور ایک طرح کی اجتماعی دعا کرتے ہیں، آیا شریعت میں اس طرح جمع ہوکر دعا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
2: دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اکثر لوگ مسجد میں تیسرے دن کی دعا امام صاحب سے مسجد میں کراتے ہیں، یا امام مسجد ان کیلئے مسجد میں بعد نماز دعا کرتے ہیں، آیا اس طرح کی دعا کرانا بھی جائز ہے یا نہیں؟
3: بعض لوگ خصوصی طور پر امام صاحب کو تیسرے دن دعا کیلئے بولاتے ہیں کہ امام صاحب آپ دعا کریں، تو آیا امام کو جانا جائز ہے یا اس بدعت کو ختم کرنا ضروری ہے؟ان تینوں مسئلوں کی وضاحت فرمائیں۔
واضح ہوکہ میت کیلئے ایصال ثواب کرنا مستحب عمل ہے، لیکن اس کیلئے کوئی خاص طریقہ، خاص دن و خاص وقت شریعت نے مقرر نہیں کیا، پس جو شخص جس وقت چاہے کوئی بھی نفلی عبادت کرکے اس کا ثواب میت کو بخش سکتا ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں اولاً تو میت کے گھر والوں کا تین دن تک تعزیت کیلئے بیٹھنے میں حرج نہیں، اور لوگوں کا میت کے متعلقین کو جاکر تسلی دینا ، ان کی دلجوئی کرنا اور صبر کی تلقین و ترغیب دینا، اور میت کیلئے دعائے مغفرت کرنا شرعاً مسنون عمل ہے، جبکہ سوال میں مذکور طریقہ کے مطابق تیسرا دن اجتماعی دعا کیلئے خاص کرکےمیت کے گھر والوں کے ہاں جمع ہونا، یا امام مسجد کو بلا کر دعا کروانا اور اس کو لازم سمجھنا، پھر اجتماعی دعا نہ کرنے والوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا ناجائز اور بدعت ہے، جس سے اجتناب اور اس طرح کے التزام کو حکمت و مصلحت کے ساتھ ختم کرنا ضروری ہے۔
کما فی الدر المختار: ولا بأس بنقلہ قبل دفنہ(إلی قولہ) وبتعزیۃ أھلہ وترغیبھم فی الصبر وبا تخاذ طعام لھم وبا لجلوس لھا فی غیر مسجد ثلاثۃ أیام الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ وبتعزیۃ أھلہ) أی تصبیرھم والدعاء لھم بہ (إلی قولہ) وتستحب التعزیۃ للرجال والنساء اللاتی لا یفتن، لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام " من عزی أخاہ بمصیبۃ کساہ اللہ من حلل الکرامۃ یوم القیامۃ" رواہ ابن ماجہ، وقولہ علیہ الصلاۃ والسلام "من عزی مصابا فلہ مثل أجرہ" رواہ الترمذی وابن ماجہ (إلی قولہ) وقال أیضاً ویکرہ إتخاذ الضیافۃ من الطعام من أھل المیت لأنہ شرع فی السرور لا فی الشرور، وھی بدعۃ مستقبحۃ (إلی قولہ) ویکرہ إتخاذ الطعام فی الیوم الاول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلی القبر فی المواسم، واتخاذ الدعوۃ لقراءۃ القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءۃ سورۃ الأنعام أو الإخلاص الخ(باب صلاۃ الجنازۃ، ج 2، ص 240، 241، ط: سعید)۔
وفیہا أیضاً: وفی الإمداد: وقال کثیر من متأخر أئمتنا یکرہ الاجتماع عند صاحب البیت ویکرہ لہ الجلوس فی بیتہ حتی یأتی إلیہ من یعزی، بل إذا فرغ ورجع الناس من الدفن فلیتفرقوا ویشتغل الناس بأمورھم وصاحب البیت بأمرہ الخ(باب صلاۃ الجنازۃ، ج 2، ص 241، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: التعزیۃ لصاحب المصیبۃ حسن کذا فی الظھیریۃ، وروی الحسن بن زیاد اذا عزی أھل المیت مرۃ فلا ینبغی أن یعزیہ مرۃ أخری کذا فی المضمرات، ووقتھا من حین یموت إلی ثلاثۃ أیام ویکرہ بعدھا إلا أن یکون المعزی أو المعزی الیہ غائبا فلا بأس بھا (إلی قولہ) ولا بأس لأھل المصیبۃ أن یجلسوا فی البیت أو فی مسجد ثلاثۃ أیام والناس یأتونھم ویعزونھم ویکرہ الجلوس علی باب الدار الخ(الفصل السادس فی القبر والدفن والنقل من مکان الی آخر، ج 1، ص 167، ط: ماجدیۃ)۔
وفی البحر الرائق: ولان ذکر اللہ تعالی إذا قصد بہ التخصیص بوقت دون وقت أو بشئی دون شئی لم یکن مشروعاً حیث لم یرد الشرع بہ لانہ خلاف المشروع الخ(باب العیدین، ج 2، ص 159، ط: رشیدیۃ)۔