السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته
سوال:
ہمارے محلہ میں ایک جامع مسجد اور اسی کے احاطے میں ایک رہائشی مدرسہ قائم ہے،
عرض یہ ہے کہ اس مسجد و مدرسہ کے انتظامی امور (صدر یا متولی وغیرہ) کے لیے اہلِ محلہ میں سے کس کو منتخب کیا جائے؟
صورتِ حال:
1. ایک طرف ہمارے ہی محلے کے رہایشی ایک عالمِ دین و مفتی صاحب ہیں جو حافظِ قرآن بھی ہیں، پاکستان و بیرونِ ملک میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سال، سات ماہ اور مستورات میں تین ماہ لگا چکے ہیں،
2. ان کا حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ سے بیعت و اصلاح کا تعلق رہا ہے۔
3. وہ اسی مسجد میں فی سبیل اللہ جمعہ و درس کی خدمت انجام دے رہے ہیں، اور گزشتہ بارہ سال سے مدرسے کی تدریس و اہتمام کی ذمہ داری بھی بلا معاوضہ سرانجام دے رہے ہیں،
4. ان پر حیدرآباد کے اکابر علماء کرام کا اعتماد بھی ہے،
جبکہ دوسری طرف اسی محلے کے ایک شخص ہیں جو نہ حافظِ قرآن ہیں، نہ عالمِ دین و مفتی، نہ ہی ان کے چہرے میں سنت رسول ﷺ داڑھی ہیں، اور نہ ہی دین و تبلیغ سے کوئی عملی وابستگی رکھتے ہیں،
ان کو چند افراد سیاسی یا ذاتی مفاد کی بنیاد پر صدر بنانا چاہتے ہیں،
اب سوال یہ ہے کہ:
5. شرعاً مسجد و مدرسہ کی صدارت یا متولی کی ذمہ داری کس کو دی جائے؟
6. اگر ہم نے ذاتی تعلقات یا مفاد کی خاطر کسی غیر اہل شخص کو یہ منصب دے دیا تو کیا ہم گناہگار ہوں گے؟
7. کیا ایسے عمل پر ہم قیامت کے دن عنداللہ مجرم و جواب دہ ہوں گے،،،؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ کی روشنی میں واضح شرعی رہنمائی فرمائیں،
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
عرض گزار:
اہلِ محلہ جامع مسجد و مدرسہ،
واضح ہو کہ مسجد کا متولی ایسے آدمی کو بنایا جائے جو مسائل وقف سے خوب واقف ، امانتدار ، دیانت دار ، اور وقف کا انتظام چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ لہذا مذکور دو اشخاص میں سے جس شخص کی مانت داری ، دیانت داری اور اس کے وقف کے لیئے زیادہ مفید ہونے پر اہل محلہ کا اتفاق ہو ، اسی شخص کو وقف کا متولی بنانا ضروری ہے جبکہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور مفتی صاحب کا بظاہر اس منصب کے لیئے اہل ہونا راجح معلوم ہوتا ہے اور کسی دنیاوی مفاد کی خاطر وقف کا متولی کسی نا اہل شخص کو بنانا امانت میں خیانت کرنے کے زمرے میں آتا ہے جو کہ شرعا بھی ناجائز ہے جس سے احتراز لازم ہے بصورت دیگر وہ اس خیانت پر جوابدہ ہوں گے ۔
کما فی القرآن الکریم : ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامانات الی اھلھا واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل ( آیت نمبر : 58 ، سورۃ النساء )
وفی صحیح البخاری : قال النبیﷺ فاذا ضیعت الامانۃ فانتظر الساعۃ فقال : کیف اضاعتھا ؟ قال اذا وسد الامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ ( باب من سئل علما وھو مشتغل فی حدیثہ ، ج : 1 ، ص : 161 ، ط : البشری )
وفی بحر الرائق : لا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولاية مقيدة بشرط النظر وليس من النظر تولية الخائن لأنه يخل بالمقصود وكذا تولية العاجز لأن المقصود لا يحصل به ويستوي فيه الذكر والأنثى وكذا الأعمى والبصير ( کتاب الوقف ، ج : 5 ، ص : 378 ، ط : رشیدیۃ )
وفی الھندیۃ : ولو ان الواقف شرط الولایۃ لنفسہ وکان الواقف غیر مامون علی الوقف فللقاضی ان ینزعھا من یدہ ( الباب الخامس فی ولایۃ الوقف ، ج : 2 ، ص : 409 ، ط : ماجدیۃ )
وفیہ ایضا : للقاضی ان یعزل الذی نصہ الواقف اذا کان خیرا للوقف یدہ ( الباب الخامس فی ولایۃ الوقف ، ج : 2 ، ص : 409 ، ط : ماجدیۃ )
وفیہ ایضا : الاعلم بامرالوقف اولی ولو کان احدھما اکثر ورعا وصلاحا والاخراعلم بامور الوقف فالاعلم اولی بعد ان یکون بحال تؤمن خیانتہ ( الباب الخامس فی ولایۃ الوقف ، ج : 2 ، ص : 411 ، ط : ماجدیۃ )
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0