السلام علیکم ! میرانام محمد حارث ہے، اور اس وقت میں برطانیہ میں مقیم ہوں ، جبکہ میری اہلیہ پاکستان میں موجود ہیں، کچھ عرصہ پہلے میں آن لائن لڑکیوں سے فیس بک پر چیٹنگ کرتا تھا، میں کئی لڑکیوں سے بات کرچکا ہوں جب میں ان سے اپنا تعارف کرواتا تھا تو کبھی میں کسی کو کہتا ،میں single ہوں ، کبھی میں کسی کو کہتا ”I am divorced “(میں طلاق یافتہ ہوں) لیکن میں کبھی اصل میں اپنے ذہن میں نہیں سوچتا تھا کہ میں یہ سب کچھ اپنی بیوی کے بارے میں کہہ رہاہوں اور نہ ہی کبھی میں نے اپنی بیوی کا نام ان کولیا ، کبھی میں ان کوکہتا کہ میں اور میری بیوی (separate) علیحدہ ہوچکے ہیں، لیکن میں نے کبھی اپنے ذہن میں نہیں سوچا کہ میں اپنی بیوی سے علیحدہ ہوچکا ہوں براہ کرم یہ فرمادیجئے کہ کیا طلاق واقع ہوچکی ؟ اگر ہوچکی توایک طلاق واقع ہوئی یا تین ؟ آپ کے جواب کا منتظر ہوں ۔ جزاک اللہ
صورتِ مسئولہ میں سائل کا ”I am divorced “(میں طلاق یافتہ ہوں) کہہ کر طلاق کی نسبت اپنی طرف کرنے سے ان کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اسی طرح سائل کا یہ کہنا کہ ” میں سنگل ہوں“ یہ چونکہ طلاق کے معنی میں مستعمل نہیں ہے، لہذا اس سے بھی ان کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
جبکہ” علیحدہ کرنا “ الفاظ کنایہ میں سے ہے، جس میں شوہر کی نیت یا دلالت حال کا اعتبار کیاجاتاہے، لہذا اگر سوال میں مذکور الفاظ ” میں اور میری بیوی علیحدہ ہوچکے ہیں “ سے واقعۃً سائل کی نیت طلاق کی نہ ہو تو اس سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ، تاہم آئندہ اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ نامحرم عورتوں سے گفتگو کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی المجمع الأنھر: (ولو قال) لامرأته (أنا منك طالق فهو لغو) لا يعبأ به. (وإن) وصلية (نوى) به الطلاق؛ لأن الطلاق شرع مضافا إلى المرأة فإذا طلق الزوج نفسه فقد غير المشروع الخ۔ (فصل إضافة الطلاق إلى الزمان، باب إیقاع الطلاق، ج: 1، ص: 396، ط: دار الطباعۃ العامرۃ)۔
و فی الدر: وشرعا: (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق، فخرج الفسوخ كخيار عتق وبلوغ وردة، فإنه فسخ لا طلاق، (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 230، ط: سعید)۔
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے کہ : زید نے اپنی زوجہ کو نوٹس دیا کہ میں نے تجھے اپنی زووجیت سے علیحدہ کیا ہےاس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اگر طلاق واقع ہوئی تو رجعت ہوسکتی ہے یا نہیں؟
الجواب اگر زید نے بہ نیت طلاق یہ الفاظ لکھے ہیں تو اس کی زوجہ پر طلاق بائن واقع ہوگئی ، رجعت نہیں ہوسکتی ( ج: 9،ص: 387)