محترم مفتی صاحب،
السلام علیکم
ایک سال پہلے میرے شوہر نے شدید غصے میں مجھے تین طلاق کے الفاظ کہے:
1. “میری طرف سے تمہیں طلاق ہے”
2. “میری طرف سے تمہیں طلاق ہے”
3. “تم آزاد ہو، میری طرف سے یہاں سے جاؤ، جہاں جانا ہے جاؤ”
بعد میں انہوں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ طلاق نہیں ہوئی۔ براہِ مہربانی بتائیں کہ کیا طلاق واقع ہوئی، ہمارا نکاح قائم ہے اور ہمارا ساتھ رہنا جائز ہے؟
شکریہ
صورت مسؤلہ میں اگر سائلہ کے شوہر نے اسے مذکورالفاظ " میری طرف سے تمھیں طلاق ہے " کے ذریعہ تین طلاقیں دیدی ہوں جس کا وہ بھی اقرار کرتا ہو تو ان الفاظ سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا میا ں بیوی پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے سے فورا علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والا تعلق ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ سائلہ ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الفتاوی الھندیہ : وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ، ج : 1 ، ص ، 474 ، ط : ماجدیہ )
و فیہ ایضا : واذا قال لامراتہ انت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ با لشرط ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا ( الفصل الثانی فی ایقاع الطلاق ، ج : 1 ، ص : 355 ، ط : ماجدیہ )
و فی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله تعالی ( فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ) (کتاب الطلاق ، فصل : حکم الطلاق البائن ، ج :3 ، ص :187 ، ط : سعید )
و فی الھدایۃ : وفي الهداية: وإذا كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكا حا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها ( فصل فی فیما تحل بہ المطلقۃ ، ج : 2 ، ص : 409 ، ط : قدیمی )
و فی الدر المختار : ( فنحو اخرجی و اذھبی و قومی ) تقنعی تخمری استتری ( یحتمل رداء و نحو خلیۃ بریۃ حرام )
و فی رد المختار تحت ( قولہ حرام ) فاذا قال " رھا کردم : ای سرحتک یقع بہ الرجعی مع انہ اصلہ کنایۃ ایضا و ما ذلک الا لانہ غلب فی عرف الفرس استعمالہ فی الطلاق من ای لغۃ کانت ( باب الکنایات ، ج : 3 ، ص : 299 ، ط : سعید )