محترم مفتی صاحب!
میری بیوی کے بارے میں یہ جاننا ہے کہ کیا اس پر اس سال قربانی واجب تھی یا نہیں؟ ہماری مالی حالت یہ تھی کہ گھر میں صرف تقریباً 8 تولہ سونا موجود تھا، جبکہ نقد رقم بالکل نہیں تھی۔ تقریباً دو سال سے میری ملازمت نہیں تھی اور ہم کرائے کے گھر میں رہتے ہیں۔ ضروریات پوری کرنے کے لیے کئی مرتبہ وہ سونا بھی فروخت کرنا پڑا۔
ایسی صورتِ حال میں کیا قربانی واجب شمار ہوتی ہے؟اور اگر شرعاً قربانی واجب تھی مگر استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ ادا نہیں کر سکی تو اب اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا فدیہ ادا کرنا ضروری ہے یا آئندہ سال قربانی کرنا کافی ہوگا؟براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل کی بیوی کے پاس عید کے دنوں میں ساڑھے سات تولہ سونے سے زائد سونا موجود تھا تو سائل کی بیوی پر قربانی کرنا لازم تھا، اور سونے کی شکل میں مال پاس ہونے کی بنا پر وہ صاحبِ استطاعت بھی تھی،سائل پر اس کی طرف سے قربانی کرنا لازم نہیں اور نہ ہی اس کی بے روزگاری اور معاشی طور پر کمزور ہونا اس کی بیوی کے لیے کوئی عذر ہے، لہٰذا سائل کی بیوی پر لازم تھا کہ وہ اسی سونے میں سے کچھ بیچ کر یا کسی سے قرض لے کر قربانی کرتی، اب چونکہ ایامِ قربانی گزر چکے ہیں، اس لیے اب ایک سالہ متوسط بکری یا بکرے کی قیمت کسی مستحق کو صدقہ کرنا لازم ہے۔
كما قال الله تعالى في القران المجيد:فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنۡحَرۡ(سورة الكوثر:٢)
و فی بدائع الصنائع:وأيام النحر ثلاثة: يوم الأضحى - وهو اليوم العاشر من ذي الحجة - والحادي عشر، والثاني عشر وذلك بعد طلوع الفجر من اليوم الأول إلى غروب الشمس من الثاني عشر(كتاب الاضحيه،ج:،٥،ص:٦٥،مط:سعيد)
و فیہ ایضاََ:وأما الثاني فنقول إنها لا تقضى بالإراقة؛ لأن الإراقة لا تعقل قربة وإنما جعلت قربة بالشرع في وقت مخصوص فاقتصر كونها قربة على الوقت المخصوص فلا تقضى بعد خروج الوقت، ثم قضاؤها قد يكون بالتصدق بعين الشاة حية وقد يكون بالتصدق بقيمة الشاة؛ فإن كان أوجب التضحية على نفسه بشاة بعينها فلم يضحها حتى مضت أيام النحر يتصدق بعينها حية؛ لأن الأصل في الأموال التقرب بالتصدق بها لا بالإتلاف وهو الإراقة إلا أنه نقل إلى الإراقة مقيدا في وقت مخصوص حتى يحل تناول لحمه للمالك والأجنبي والغني والفقير؛ لكون الناس أضياف الله - عز شأنه - في هذا الوقت، فإذا مضى الوقت عاد الحكم إلى الأصل وهو التصدق بعين الشاة سواء كان موسرا أو معسرا لما قلنا.(كتاب الاضحيه،ج:،٥،ص:٦٨،مط:سعيد)
و فیہ ایضاََ:ومن وجبت عليه الأضحية فلم يضح حتى مضت أيام النحر ثم حضرته الوفاة فعليه أن يوصي بأن يتصدق عنه بقيمة شاة من ثلث ماله؛ لأنه لما مضى الوقت فقد وجب عليه التصدق بقيمة شاة فيحتاج إلى تخليص نفسه عن عهدة الواجب، والوصية طريق التخليص فيجب عليه أن يوصي كما في الزكاة والحج وغير ذلك(كتاب الاضحيه،ج:،٥،ص:٦٨،مط:سعيد)