طلاق

میاں بیوی کاتین طلاق کے بعد ایک ساتھ رہنے کا حکم

فتوی نمبر :
90204
| تاریخ :
2025-12-22
معاملات / احکام طلاق / طلاق

میاں بیوی کاتین طلاق کے بعد ایک ساتھ رہنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری وائف اور والدہ کا آپس میں جھگڑا ہو رہا تھا، میں نے دونوں کو چپ کرانے کی کوشش کی، پر وہ خاموش نہ ہوئیں، تو میں اپنی وائف کو کھینچ کر اپنے کمرہ میں لے گیا، جس پر وہ بولی کہ تمہاری والدہ میری بہت برائیاں کرتی ہے ، تو میں نے بولا کہ کرنے دو اس گھر میں اگر رہنا ہے تو برداشت کرنا پڑے گا، تو وہ بولی کہ میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی، اور گر اپنی امی کا سائیڈ لینی ہے تو مجھے چھوڑ دو، تو تھوڑی دیر بعد غصے کی حالت میں اس کو بول دیا کہ” جا میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں“ علاقے کے ایک مولوی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے بولا کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی، انہوں نے ہم سے تو بہ وغیرہ کروا کر گھر بھیج دیا، آیا مذکور الفاظ کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں ؟ اور کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ، ہم دونوں دوبارہ باہم ایک ساتھ اکٹھے رہنا چاہتے ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قرآن و سنت کی واضح نصوص اور چاروں ائمہ کے مذہب کے مطابق تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں ایک ساتھ دی جائیں، یا الگ الگ مجالس میں دی جائیں ، اس سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ، لہذا سائل نے جھگڑے کے دوران جب مذکور الفاظ ” جا میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں “کہہ دیئے ، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ہے ، اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دونوں کا باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقد نکاح کرنے میں بھی آزادہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایام عدت کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر دوسرا شخص بھی ایک مرتبہ کی ہمبستری (جوکہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فورًا بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد اسے طلاق دیدے ، یا طلاق تو نہ دے مگر اس کا پہلے انتقال ہوجائے ، تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے ، اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ۔ تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد طلاق دے گا ، تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرے ،یہ مکروہ تحریمی ہے ، اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے، البتہ بلاشرط حلالہ کرنا بلا شبہ درست اور جائز ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره (الاية)۔
و في صحيح البخاري عن عائشة: أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول ؟ قال ( لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول )اھ ( ج 2 ص (791)۔
وفي صحيح مسلم: عن عروة، عن عائشة قالت: جاءت امرأة رفاعة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، وإن ما معه مثل هدبة الثوب، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته، ويذوق عسيلتك (ج 1 / ص 463)۔
وفی الهندية:وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (‌‌فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 473، ط: ماجدیہ)۔
وفي الشامية: وكذا بكلمة واحدة بالأولى، وعن الإمامية: لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة وعن ابن عباس يقع به واحدة، وبه قال ابن إسحاق وطاوس وعكرمة لما في مسلم أن ابن عباس قال: «كان الطلاق على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في أمر كان لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم. فأمضاه عليهم، وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.قال في الفتح بعد سوق الأحاديث الدالة عليه وهذا يعارض ما تقدم، وأما إمضاء عمر الثلاث عليهم مع عدم مخالفة الصحابة له وعلمه بأنها كانت واحدة فلا يمكن إلا وقد اطلعوا في الزمان المتأخر على وجود ناسخ أو لعلمهم بانتهاء الحكم لذلك لعلمهم بإناطته بمعان علموا انتفاءها في الزمن المتأخر اھ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 233، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90204کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات