حاملہ بیوی کو دو مرتبہ طلاقیں دی، 3ماہ بعد بچہ پیدا ہوا، اب نکاح کا حکم کیا ہے؟
صورت مسؤلہ میں اگر سائل نے صریح الفاظ جیسے "میں طلاق دیتا ہوں" کہ ذریعہ بیوی کو دو طلاقیں دی ہوں، تو اس سے اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کے بعد دوران عدت جو کہ حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل ہے، رجوع کا اختیار تھا، چنانچہ اگر اس نے اس دوران رجوع نہ کیا ہو اور عورت کے ہاں ولادت ہوگئی ہو، تو ولادت کے ساتھ ہی چونکہ عدت گزر چکی ہے، جس کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے، چنانچہ اب اگر وہ باہمی رضا مندی سے ساتھ رہنا چاہتے ہوں، تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ، باقاعدہ گواہاں کی موجودگی میں، باضابط ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح کرنا لازم ہوگا.
كما في الدر المختار: (و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها) .اهـ (باب العدة، ج: 3، ص: 511، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح (إلى قوله) (واحدة رجعية إلخ
وفي رد المحتار: (قوله رجعية) أي عند عدم ما يجعل بائنا.اهـ (باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 248-249)
وفي الهندية: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.اهـ (الباب السادس في الرجعة، ج: 1، ص: 470، ط: مكتبة ماجدية)