السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! میرا سوال مفتیان کرام سے یہ ہے کہ میری شادی کو 20 سال ہوچکے ہیں، چند دن پہلے زوجہ سے کسی بات پہ تکرار ہوئی ، میں بھی غصّہ تھا وہ بھی غصے میں تھی، میں نے کہا کہ میں تو اب تنگ آگیا ہوں تم سے۔ تو اس نے کہا تو چھوڑ دو نا، کیوں پال رہے ہو؟ تو میں نے جواباً کہا کہ تو چلی جاؤ نا، کیوں بیٹھی ہو یہاں پہ؟ نہ تو اس کا ارادہ طلاق لینے کا تھا نہ میرا ارادہ طلاق دینے کا تھا بس غصے میں یہی الفاظ جس طرح لکھے ہیں ہم دونوں کے منہ سے نکلے، اب معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ کنایہ تو نہیں اور کیا طلاق واقع تو نہیں ہوچکی ؟ میں کافی پریشان ہوں اور زوجہ بھی پریشان ہیں۔ براہ مہربانی آگاہ فرمائیں، جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ واقعۃً بھی طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے تو ایسی صورت میں بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرارہے اور ان دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا بھی درست ہے، لیکن آئندہ کے لئے ایسے جملوں کے تبادلہ سے احتیاط چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) (الی قولہ) (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع و إلا لا الخ (باب الکنایات، ج: 3، ص: 296-301، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: تحت: (قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب. بيان ذلك أن حالة الغضب تصلح للرد والتبعيد والسب والشتم كما تصلح للطلاق، وألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه ولا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء الخ (باب الکنایات، ج: 3، ص: 301، ط: سعید)۔