اگر ہم صدقے کا گوشت اپنے رشتہ داروں کو دیں اور پھر وہ اپنے حصے میں سے وہی گوشت ہمیں دے دیں، تو کیا اسلام میں ہمارے لیے اسے کھانا جائز ہے؟
واضح ہو کہ صدقہ کا وہ گوشت صدقاتِ واجبہ میں سے ہو، تو صدقاتِ واجبہ میں اس گوشت کاکسی مستحق کو بطورِ تملیک دینا ضروری ہے، البتہ جب وہ مستحق اسے قبضہ میں لے لیتا ہے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، وہ اسے جہاں اور جس طرح چاہے استعمال کر سکتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کے رشتہ دار صدقہ کا گوشت قبضہ میں لینے کے بعد اپنی مرضی سے سائل کو بطورِ صدقہ واپس دے دیں، تو سائل کے لیے اس کا استعمال کرنا درست ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔
کما فی سنن ابی داؤد: حدَّثنا عمرو بنُ مرزوقِ، أخبرنا شُعبةُ، عن قتادةَ عن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم أُتي بلَحم، قال: ما هذا؟ " قالوا: شيءٌ تُصدِّق به على بَريرةَ، فقال: "هو لها صدقةٌ ولنا هديةٌ (باب الفقير يهدي للغني من الصدقة،ج:1،ص:729،ط:بشری)
وفي بذل المجهود: والحاصل: أن الصدقة إذا دخلت في ملك الفقير، وبلغت محلها، انتهت كونها صدقة، فلما أعطاها الفقير للغني والهاشمي لا يكون في حقه صدقة، بل تكون هدية اھ (باب الفقير يهدي للغني من الصدقة، ج:1،ص:729،ط:بشری)
وفي الدر المختار: (وطاب لسيده وإن لم يكن مصرفا) للصدقة (ما أدى إليه من الصدقات فعجز) لتبدل الملك، وأصله حديث بريرة «هي لك صدقة ولنا هدية» (كما في وارث) شخص (فقير مات عن صدقة أخذها وارثه الغني " و) كما في (ابن سبيل أخذها ثم وصل إلى ماله وهي في يده) أي الزكاة، وكفقير استغنى، وهي في يده فإنها تطيب له اھ ( باب: موت المكاتب وعجزه وموت المولى،ج:6،ص:116،ط:سعید)۔