السلام علیکم !سر!میرے نانا نے مرنےسے پہلے میرے ماموں اور امی كو وصيت كی تھى كہ دوسری نانی صاحبہ کا مہر دوہزارہے وہ ان کو دیدینا،پرمیری امی اور ماموں نے نہیں دیا، کیونکہ وہ ان کی دوسری ماں تھی اور نفرت تھی ان کو،نانا کے بعد انہوں نے نکال دیا اور وصیت کے مطابق دو ہزار بھی نہیں دیا ان کا،اب چالیس سال بعد مجھے امی نےبتایا تو میں نے دوکی جگہ چھ ہزار صدقہ کردیا نانی کیلئے،کیونکہ اب ان کے وارثین کا نہیں پتہ اور تلاش کرنا بھی ممکن نہیں تو کیا میں نے صحیح کیا؟
صورت مسئولہ میں اگرسائل کےنانا پر ان کی زوجہ (دوسری نانی )کامہربقایاتھا،تو وہ مہر ان کے ذمہ واجب الاداء دین تھااور چونکہ دین کی ادائیگی ورثاء پر مقدم ہوتی ہے،چنانچہ اس واجب الاداء مہر کا ان کے ترکہ سے اداء کرنالازم تھا۔
لہذا اگر اس وقت ورثاء نےمہر اداء نہیں کیا تو وہ رقم بدستور نانی یا ان کے ورثاءکا حق رہی،اب جبکہ اصل مستحقین(نانی یا ان کےورثاء)کاعلم نہیں اور تلاش بھی ممکن نہیں،توسائل کا ان کی طرف سے اصل دو ہزار کی جگہ چھ ہزار صدقہ کرنااگرچہ درست اور باعث اجر ہے۔البتہ اگر آئندہ کبھی نانی یاان کے ورثاء معلوم ہوجائیں تواصل واجب رقم (دوہزار)انہیں اداکرنالازم ہوگا،اور مذکور چھ ہزار روپے سائل کی جانب سے نفلی صدقہ شمار ہوں گے۔
کما فی الفتاویٰ الھندیۃ: (الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة) والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق کذا فی البدائع اھ(ج:1،ص:303،مط:ماجدیۃ)
وفی الدالمختار:(ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض ،الخ(ج:6،ص:760،مط:ایچ ایم سعید کراچی)
وفی ردالمحتارتحت قول الدر(الحرمۃتتعددمع العلم بہاالا فی حق الوارث)والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه،الخ(ج:5،ص:99،مط:سعید)