السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی غصے میں یہ کہے ”اگر تم گھر سے باہر جاتی ہو تو میں تمہیں ہزار مرتبہ طلاق دونگا “ مگر بیوی نہیں جاتی ہے اور واپس اپنے کمرے میں جاتی ہے ۔اور شوہر کی نیت بھی صرف ڈرانے کی حد تک ہو تو اس میں کیا حکم ہے ۔ شکریہ
صورتِ مسؤلہ میں اگر مذکور شخص نے واقعۃً یہ الفاظ ”اگر تم گھر سے باہر جاتی ہو تو میں تمہیں ہزارمرتبہ طلاق دونگا“ بیوی کو ڈرانے کیلئے استعمال کیے ہوں تو چونکہ ان الفاظ میں انشاءِ طلاق کے بجائے مستقبل میں طلاق دینے کا وعدہ ہے اس لئے ان الفاظ کی وجہ سے اس شخص کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،اور آئندہ گھر سے باہرجانے پر بھی طلاق واقع نہ ہوگی، تاہم بیوی کو ڈرانے ، دھمکانے کیلئے بھی اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے احتراز چاہئیے ۔
کما فی الدر : طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لانه وعد، ج ،2 ،ص : 216 )
و فی الھندیہ : لایقع الطلاق باطلقک لانہ وعد،ج : 1، ص : 374 )
و فیہ ایضا : لو قال بالعربیہ اطلق لا یکون طلاقا )