السلام علیکم ۔ میرے شوہر نے مجھے 2020 اگست میں ایک طلاق دی تھی تب میں حاملہ تھی اس کے بعد سے 2024 تک ہم ایک گھر رہے پر انھوں نے رجوع نہیں کیا اور بہت مارتا تھا مجھے ۔ میں وہاں سے جان بچاکر اپنی بہن کے پاس آگئی ہوں امریکہ ۔ ایک سال سے یہاں ہوں کیا میری طلاق ہوگئی ہے مجھے اسکا فتوی چاہیئے براہ کرم ۔ جزاک اللہ
سائلہ کا بیان اگرواقعۃ درست ہو، اس میں کسی قسم کی کمی کوتاہی سے کام نہ لیا گیا ہو ، تو سائلہ کے شوہر نے جب 2020 میں سائلہ کو ایک طلاق دی تھی تو اس سے سائلہ پر طلاق واقع ہوچکی تھی ، اس کے بعد اگر شوہر نے عدت (بچے کی پیدائش تک) کے دوران بیوی سے نہ زبانی رجوع کیا ہو(جیسے تم میری بیوی ہو یا میں رجوع کرتا ہوں) اور نہ ہی میاں بیوی والا تعلق قائم کیا ہو اور نہ ہی شہوت سے بیوی کوچھوا ہو تو بچے کی پیدائش کے بعد سائلہ کا اپنے شوہر سے نکاح ختم ہوچکا ہے، اس کے بعدسائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما فی الھدایہ : اذا طلق الرجل امراتہ تطلیقۃ فلہ اں یراجعھا فی عدتھا ( ج : 2 ، ص359،کتاب الطلاق )
وفی الھندیۃ : الرجعۃ ابقاء النکاح علی ما کان ما دامت فی العدۃ کذافی التبیین وھی علی ضربین سنی و بدعی فالسنی ان یراجعھا بالقول و یشھد علی رجعتھا شاھدین و یعلمھا بذلک فاذا راجعھا بالقول نحو ان یقول لھا راجعتک او راجعت امراتی ولم یشھد علی ذلک او اشھد ولم یعلمھا بذلک فھو بدعی مخالف للسنۃ والرجعۃ صحیحۃ وان راجعھا بالفعل مثل ان یطاھا او یقبلھا بشھوۃ او ینظر الی فرجھا بشھوۃ فانہ یصیر مراجعا عندنا (الباب السادس فی الرجعۃ ، ج : 1 ، ص : 468 ، ط : ماجدیہ )
و فی در المختار : ( و ) فی حق (الحامل) مطلقا ولو امۃ ، او کتابیۃ او من الزنا بان تزوج حبلی من زنا و دخل بھا ثم مات ، او طلقھا تعتد بالوضع جواھر الفتاوی ( وضع) جمیع (حملھا) (کتاب الطلاق ، باب العدۃ ، ج : 3 ، ص : 511 ، ط : سعید)
و فی بدائع الصنائع : اما الطلاق الرجعی فالحکم الاصلی لہ ھو نقصان العدد ، فاما زوال الملک ، و حل الوطء فلیس بحکم اصلی لہ لازم حتی لا یثبت للحال ، و انما یثبت فی الثانی بعد انقضاء العدۃ فان طلقھا و لم یراجعھا بل ترکھا حتی انقضت عدتھا بانت (کتاب الطلاق ، فصل فی حکم الطلاق ، ج : 3 ، ص : 120 ، ط : دار الکتب العلمیہ)