السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب، گزارش ہے کہ درج ذیل مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں:
واقعہ کی تفصیل:
جب میری عمر دو سال سے کم تھی، تو ایک مرتبہ میری خالہ اپنے بیٹے کو دودھ پلا رہی تھیں۔ ان کے بیان کے مطابق جب وہ اپنے بیٹے کو دودھ پلا چکیں تو انہوں نے مجھ سے (بطورِ مذاق) پوچھا کہ "کیا تم بھی پیو گے؟" ان کا خیال تھا کہ میں دودھ نہیں پیوں گا، لیکن میں ان کی طرف لپکا اور پستان (Breast) اپنے منہ میں لے لیا۔
خالہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسی وقت فوراً مجھے اپنے سے الگ کر دیا اور پستان میرے منہ سے نکال لیا۔ خالہ کو اس بات کا قطعاً یقین نہیں ہے کہ اس مختصر سے لمحے میں دودھ میرے حلق سے نیچے اترا تھا یا نہیں اور اب صرف خالہ کا یہ "شک" موجود ہے کہ شاید دودھ حلق سے نیچے اترا ہو، لیکن انہیں اس کا یقین یا مشاہدہ نہیں ہے۔
کیا اس سے رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ محض شک کی بناء پر حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے ,لہذا صورت مسئولہ میں جب خالہ کو اس بات میں شک ہے کہ دودھ حلق سے نیچے گیا ہے یا نہیں تو ایسی صورت میں حرمت رضاعت شرعاً ثابت نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار: ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكا ولوالجية.(ج:3،ص:212،ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ: قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف كذا في السراج الوهاج۔(ج:1ص:242)
وفی البحرالرائق: وخرج بالوصول لو أدخلت امرأة حلمة ثديها في فم رضيع ولا يدري أدخل اللبن في حلقه أم لا لا يحرم النكاح لأن في المانع شكا كذا في الولوالجية(ج:3،ص:222)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0