شوہر اور بیوی کی لڑائی میں بنا سوچے سمجھے میں تین بار بنا نام لیئےطلاق بولنے کا کیا حکم ہوگا ؟
واضح ہو کہ بیوی کے ساتھ لڑائی کے دوران اگر شوہر اسے نام لیئے بغیربھی تین دفعہ " طلاق طلاق طلاق " کے الفاظ کہہ دے تب بھی اس سے بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوجاتی ہے، جس کے بعد نہ رجوع کرنا درست ہوتا ہے اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح ہوسکتاہے بشرط یہ کہ ان کے مابین خلوت صحیحہ یا ازدواجی تعلق قائم ہوچکی ہو ۔ جبکہ عورت ایام عدت گزرجانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
کما فی الھندیہ : متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق ( کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول فی الطلاق الصریح، ج :1 ، ص : 356 ، ط : ماجدیہ )
و فی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ..الی قولہ سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة. ( کتاب الطلاق ، فصل فی حکم الطلاق البائن ، ج :3 ، ص : 187 ، ط : دار الکتب العلمیۃ)
وفی ردالمختار تحت قولہ : ( لترکہ الاضافۃ ) ولا یلزم کون الاضافۃ صریحۃ فی کلامہ ، لما فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت ؟ فقال امراتی طلقت امراتہ ھ( باب الصریح ، ج : 3 ، ص : 248 ، ط : سعید )