کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آدمی کا بچہ چھوٹا ہو اور اس کی اہلیہ بھی کمزور ہو اور اس عرصے میں زوجہ حاملہ ہو جائے تو اس حمل کو ضائع کرانا جائز ہے یا نہیں ؟اور جواز کی کون کون سی صورتیں ہیں ؟ مفصل و مدلل جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔ جزاكم الله خيرا
سائل کی بیوی اگر واقعۃً اس قدر کمزور ہو کہ اس حمل کو باقی رکھنے کی صورت میں پہلے خود عورت اور حمل کی جان کا اندیشہ ہو یا پہلے موجود بچے کی صحت پر برے اثرات پڑنے کا قوی اندیشہ ہو اور کوئی دیندار ماہر معالج اس کا ضائع کرنا تجویز کر دے تو اس صورت میں بوجہ مجبوری اس حمل کی چار ماہ ( ایک سو بیس دن) مدت پوری ہونے سے پہلے اس کا اسقاط کرنے کی شرعاً گنجائش ہے ورنہ نہیں ۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية اھ (6/ 429) واللہ اعلم بالصواب