السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میں مندرجہ ذیل صورت حال کی بنیاد پر اپنی نمازوں کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں: آبائی شہر: میرا مستقل گھر قادر پور راں، ملتان ہے، جہاں میرے والدین اور خاندان مقیم ہیں۔ ملازمت کا مقام: میں ڈی جی خان میں کام کرتا ہوں، جو میرے آبائی شہر سے تقریباً 110-120 کلومیٹر دور ہے (شرعی سفری فاصلے سے زیادہ)۔ ہفتہ وار معمول: میں اپنے کام کے سلسلے میں ہر ہفتے ڈی جی خان جاتا ہوں۔ میں وہاں 5 دن رہتا ہوں اور ہر ہفتے کے آخر میں 2 دن اپنے آبائی شہر لوٹتا ہوں۔ ڈی جی خان میں رہنے کے حالات: میں اپنے کام کی جگہ سے فراہم کردہ ایک مخصوص ہاسٹل میں رہتا ہوں۔ میرے پاس تمام ضروری سہولیات کے ساتھ ایک وقف شدہ کمرہ ہے اور کھانے کے لیے ایک میس ہے۔ قیام کی حیثیت: میں کوویڈ کے دوران ایک بار مسلسل 15 دن تک ڈی جی خان میں رہا۔ میرا قیام ہمیشہ ایک وقت میں 5 دن یا اس سے کم ہوتا ہے۔ میرے سوالات: کیا ڈی جی خان میں اپنے 5 روزہ قیام کے دوران مجھے 'مسافر' (مسافر) سمجھا جاتا ہے، یا کیا ایک مخصوص کمرہ اور باقاعدہ ملازمت مجھے 'مقیم' (مقامی) بناتی ہے؟ کیا مجھے ڈی جی خان میں قیام کے دوران قصر (4 رکعات فرض کے لیے 2 رکعات) پڑھنا چاہیے یا پوری نماز؟ کیا میری حیثیت بدل جاتی ہے کیونکہ یہ میرا مستقل ہفتہ وار معمول ہے؟ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیر۔
صورت مسؤلہ میں سائل کو اگرچہ جائے ملازمت میں رہائشی کمرہ مہیا کیا گیا ہو،مگر سائل نے وہاں کسی وقت بھی پندرہ دن قیام کی نیت نہ کی ہو،بلکہ کوویڈ کے زمانے میں پندرہ دن قیام کی نیت کئے بغیر مجبوری میں اسے وہاں ٹھہرنا پڑا ہو،تو ایسی صورت میں سائل کا اپنی جائے ملازمت میں پندرہ دن سے کم قیام کی صورت میں چار رکعت والی فرض نماز انفرادی ادا کرتے وقت قصر کرنا لازم ہوگا تاہم اگر کوویڈ کے ایام میں ان کی نیت وہاں پندرہ دن ٹھہرنے کی تھی یا مسافر ہونے کی صورت میں وہ مقیم امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنا چاہے تو بہر دو صورت اس کیلئے قصر کے بجائے إتمام ضروری ہوگا۔
کما في الفتاویٰ الهندية : و لا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوماً أو اكثر اھ (الباب الخامس عشر فی صلاۃ المسافر،ج: ۱،ص: ۱۳۹،مط: دارالفکر بیروت۔)
و فی الھدایۃ: ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر وإن نوى أقل من ذلك قصر،اھ (باب صلاۃ المسافر،ج: 1،ص:80،مط: بیروت ۔)
و فی مختصر القدوری: ومن دخل بلدا ولم ينو أن يقيم فيه خمسة عشر يوما وإنما يقول غدا أخرج أو بعد غد أخرج حتى بقي على ذلك سنين صلى ركعتين اھ (باب صلاۃ المسافر،ج: 1،ص: 37،مط: دارالکتب العلمیہ۔)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4